فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 232 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 232

۲۳۲ مسجد اور اس میں سستانے کی اجازتے سوال : گرمیوں میں ایک شخص مسجد میں ظہر کی نماز پڑھنے کے لئے آتا ہے اور مسجد میں نماز عصر تک رہتا ہے۔کیا اس عرصہ میں وہ مسجد میں سو سکتا ہے ؟ جوا ہے۔مسجد کو خوابگاہ کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔یہ صدایت و ارشاد اس مقصد کے لئے ہے کہ مسجد کو نا واجب باتوں اور غیر ضروری استعمال سے محفوظ رکھا جائے تاکہ عبادت اور ذکر الہی میں حرج نہ ہو۔تاہم وقت ضرورت مسجد میں انسان آرام کے لئے لیٹ سکتا ہے اور سوبھی سکتا ہے نہ بطور حق کے بلکہ صرف ضرورت اور مجبوری کے پیش نظر سوال: کیا گم شدہ اشیاء کا اعلان مسجد میں ہو سکتا ہے؟ جواب : مسجد کے اندر گئی ہوئی چیز کا اعلان با جازت امیر پریذیڈنٹ یا امام مسجد کے اندر ہو سکتا ہے۔جو چیز باہر گئی ہو یا لاپتہ ہوئی ہو اس کا اعلان مسجد سے باہر ہونا چاہیے۔اسی طرح ایسے امر کے متعلق جس کا تعلق جماعت کے انتظام سے ہو یا کسی شرعی مسئلہ ہے ، اس کا اعلان بھی مسجد میں کیا جا سکتا ہے لیے سوال : کیا نماز کی جگہ تھوکنا اور ادھر ادھر کی باتیں کرنا جائز ہے ؟ جو اہے :- جہاں نماز پڑھی جائے اس جگہ کو ہر قسم کے گند سے اور لغو امور سے پاک رکھنا چاہیئے میسجد میں لغو باتیں کرنا اور شور مچانا بھی جائز نہیں۔ایک دفعہ صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے مسجد میں آگئے اور اپنے ابا جان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ہو بیٹھے۔وہ اپنے لڑکپن کے باعث کسی بات کے یاد آجانے پر دبی آواز سے بار بار کھل کھلا کر ہنس پڑتے تھے۔اس پر حضرت اقدس علیہ السّلام نے فرمایا کہ مسجد میں ہنسنا نہیں چاہیے " سے سوال:۔گرمیوں کے موسم میں جب مسجد کا صحن سخت گرم ہو جاتا ہے تو صحن عبور کر کے آنے میں نمازیوں کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔اگر صحن میں ٹاٹ بچھا دیا جائے تو کیا جوتے پہنے ہوئے مسجد میں داخل ہو سکتے ہیں؟ له : ابوداؤد كتاب الصلوة ياب في كراهية انشاء الضالة في المسجد من ، ابن ماجه باب النهي عن انشاد الطوال في المسجدمة : ته: فتاوی احمدیہ صل :