فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 197
194 قضاء عمری سوال ہوا کہ جمعتہ الوداع کے دن لوگ چار رکعت نماز پڑھتے ہیں اور اس کا نام قضاء عمری رکھتے ہیں اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ گذشتہ نمازیں جو ادا نہیں کیں ان کی تلافی ہو جا دے اس کا کوئی شور سے یا نہیں ؟ جواب: - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا : " یہ ایک فضول امر ہے۔مگر ایک دفعہ ایک شخص ہے وقت نماز پڑھ رہا تھا کسی شخص نے حضرت علی نہ کو کہا کہ آپ خلیفہ وقت ہیں اسے منع کیوں نہیں کرتے؟ فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس آیت کے نیچے ملزم نہ بنا یا جاؤں :- وتر ادعيتَ الَّذِى يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى : ہاں اگر کسی شخص نے عمداً نماز اس لئے ترک کی ہے کہ قضاء عمری کے دن پڑھ لوں گا تو اس نے نا جائز کیا ہے اور اگر ندامت کے طور پر تدارک مافات کرتا ہے تو پڑھنے دو کیوں منع کرتے ہو آخر دعا ہی کرتا ہے۔ہاں اس میں پست ہمتی ضرور ہے پھر دیکھو منع کرنے سے کہیں تم بھی اس آیت کے نیچے نہ آجاؤ " سے و ترطاق کو کہتے ہیں اور اسے مراد یہ ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد کم از کم تین رکعت نماز پڑھی جائے یہ نماز واجب ہے وتر کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد علی الترتیب سورہ اعلیٰ سورہ کافرون اور سورہ اخلاص پڑھنا مسنون ہے۔تاہم کوئی دوسری سورہ بھی پڑھی جاسکتی ہے۔وتر کی دوسری رکعت کے بعد قعدہ میں بیٹھ کر تشہد پڑھے۔پھر سلام پھیر کہ الہ اکبر کہتے ہوئے کھڑا ہو جائے اور تیسری رکعت پڑھے یہ بھی جائز ہے کہ تشہد کے بعد اٹھ کر تیسری رکعت مکمل کرے اور پھر سلام پھیرا جائے۔البتہ پہلی دکو رکعت پڑھے بغیر صرف ایک رکعت پڑھنا پسندیدہ نہیں۔وتر کی تیسری رکعت کے بعد دعائے قنوت پڑھنا مسنون ہے۔دعائے قنوت یہ ہے :- له : - عن على انه رائ في المصلي اقوا ما يصلون قبل صلوة العيد فقال ما رأیت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل ذالك فقيل له الا ننها هم نقال اخشى ان ندخل تحت وعيد وله تعالى القيت الذي ينهى عبدا اذا صلی - تفسیر روح البیان به مطبوعہ تنبول ما له صورة علق ۱ - بن الحکم اور اپیل کشته فتاری می شود