فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 194
۱۹۴ سوال : اگر مسافر امام کے ساتھ نماز میں اس وقت شامل ہو جب کہ امام پہلی دو رکعتیں پڑھ چکا ہو تو کیا مسافر اپنی دو رکعت پڑھ کر امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دے یا چار پڑھے ؟ جوا ہے :۔جب مسافر مقیم امام کے ساتھ شامل ہو تو اس کو چاروں رکھتیں ہی پڑھنی چاہئیں لیے سوال : سفر میں نماز قصر کرنا ضروری ہے یا اختیاری۔اسی طرح سفر میں نمازوں کا جمع کرنا ضروری ہے یا اختیاری؟ جوا ہے :۔سفر میں نماز قصر کرنا ضروری ہے۔جماعت احمدیہ کا مسلک یہی ہے۔کیونکہ خدا نے اپنی رحمت سے یہ ایک رعایت دی ہے اس لئے اس نعمت کی قدر کرنی چاہیئے۔کیونکہ شکر نعمت واجب ہے نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے عام صحابہ کرام اس کا التزام فرمایا کرتے تھے۔علاوہ ازیں بعض حدیثیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر کی اصل نمازہ ہی دو رکعت ہے صرف اقامت کی صورت میں دورکعتوں کا اس پر اضافہ کیا گیا ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ : " الصَّلوةُ أَوَّلُ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَانِ فَاقِرَّتْ صَلوةُ السَّفَرِ وَ ا تَمَّتْ صَلوةُ الْحَضْر پس جو اصل ہے اسے ترک کرنا درست نہیں۔(۳) جمع کی بنیاد ضرورت پر ہے اس لئے یہ ایک اختیاری رعایت ہے یعنی اگر ضرورت اور مجبوری ہو تو جمع کر لے ورنہ الگ الگ وقت پر پڑھے۔کیونکہ اس میں اصل یہ ہے کہ ہر نماز اپنے اپنے وقت پر پڑھی جائے۔نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا طریق عمل نویں ذی الحجہ کی نمازہ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کے علاوہ باقی ایام کی نمازوں میں جمع سے متعلق اختیاری امر کی وضاحت کرتا ہے اور یہی سنت مسلمانوں میں رائج ہے۔نماز خوف حالت خوف مثلاً محاذ جنگ میں نماز قصر کرنے کی اجازت ہے۔قصر کے معنے ہیں چھوٹا کرنا۔چنانچہ خوف کی حالت میں نماز مختصر ہو جاتی ہے۔اس کی مختلف طریقے قرآن کریم اور احادیث میں بیان ہوئے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ میدان جنگ میں اگر زور کی لڑائی ہو رہی ہو یا دشمن کے حملے کا ڈر ہو یا فوج مورچہ بند ہو تو ان سب صورتوں میں حسب حالات نماز کی رکھتیں کم ہو جاتی ہیں۔ڈو کا موقع ہو تو دو ورنہ ایک رکعت ہی کافی ہوگی۔اگر حالات زیادہ خطرناک ہوں تو جماعت کی بجائے اکیلے اکیلے اور اگر اس کا : الفضل ۲۳ جنوری سوله - فتاوی احمدیہ مثال به سه : - بخاری ابواب تقصیر الصلواة - باب يقصر اذا خرج منا ، ابو داؤد :