فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 193 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 193

۱۹۳ سفری تاجر کی نماز سوال : یکی اور میرے بھائی ہمیشہ تجارت عطریات وغیرہ میں سفر کرتے ہیں۔نماز ہم دوگانہ پڑھیں یا پوری ؟ ہواہے :۔حضرت اقدس علیہ اسلام نے فرمایا۔سفر تو وہ ہے جو ضرورتا گاہے بگا ہے ایک شخص کو پیش آو ہے نہ یہ کہ اس کا پیشہ ہی یہ ہو آج یہاں کل وہاں اپنی تجارت کرتا پھرے۔یہ تقویٰ کے خلاف ہے کہ ایسا آدمی اپنے آپ کو مسافروں میں شامل کر کے ساری عمر نماز قصر کرنے میں ہی گذار دے۔اے حکام کا دورہ سفر نہیں حکام کا دورہ ایسا ہے جیسے کوئی اپنے باغ کی سیر کرتا ہے۔خواہ نخواہ قصر کرنے کا تو کوئی وجود نہیں۔اگر دوروں کی وجہ سے انسان قصر کر نے لگے تو پھر یہ دائمی قصر ہوگا جس کا کوئی ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے۔حکام کہاں مسافر کہلا سکتے ہیں۔سعدی نے بھی کہا ہے۔منعم بکوه و دشت و بیابان غریب نیست ہر جا کہ رفت خیمه زد و خوابگاه ساخت که سوال :۔مبلغین نے پوچھا کہ ہم سفر میں رہتے ہیں روزہ افطار اور نماز قصر کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ جواب: - حضرت خلیفہ ایسیح الثانی نے فرمایا " سفر چھوٹا کہ دو۔روزے برابر رکھو۔یہ آپ لوگوں کا فرض منصبی ہے اس لئے آپ سفر پر نہیں سمجھے جا سکتے ، سے سوال:- داماد اپنے سسرال جا کہ پوری نماز پڑھے یا دوگانہ ؟ جواب : سسرال کا گھر بھی پردیس اور سفر کے حکم میں ہے۔وہاں قصر نماز ہی پڑھنی چاہیئے۔سوائے اس کیے کہ وہاں اس کی اپنی جائیداد ہو اور وہ اسے اپنے گھر کی طرح سمجھتا ہو۔اس صورت میں اسے مقیم سمجھا جائے گا۔- 1 بدر ۲۸ مارچ : الحکم ۲۳ اپریل تشله ، فتاوی مسیح موعود شاه : و الفضل ۱۶ جولائی ۱۹۱۳ : -1