فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 183 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 183

۱۸۳ قربانی کا وقت دس ذی الحجہ کو عید کی نماز کے بعد سے لے کر بارہ ذی الحجہ کو سورج کے نؤدب ہونے سے پہلے تک رہتا ہے۔قربانی کا گوشت صدقہ نہیں۔انسان خود بھی کھا سکتا ہے اور دوستوں کو بھی کھلا سکتا ہے۔غریبوں کو بھی اس میں سے کھلانا چاہئیے۔بہتر ہے کہ تین حصے کہ ہے۔ایک حصہ خود رکھے ، ایک رشتہ داروں میں تقسیم کرتے اور ایک اللہ غریبوں میں ہیم۔عقیقہ بچہ کی پیدائش پر ساتویں روز سر کے بال اتروانا اور ان بالوں کے برابر چاندی یا سونا بطور صدقہ دینا نام رکھنا اور عقیقہ کرنا مسنون ہی ہے۔حدیث میں اس کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔عقیقہ سے مراد جانور کا ذبح کرنا ہے۔" لڑکے کی صورت میں دو بکرے یا دنبے اور لڑکی کی صورت میں ایک بکرا یا دنبہ وغیرہ ذبیح کرنا چاہیئے۔جانور اچھی عمر کا موٹا تازہ ہو گو اس کے لئے عمر کی وہ شرط لازمی نہیں جو قربانی کے جانور کیلئے ہے۔عقیقہ کا گوشت انسان خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسرے دوست احباب اور رشتہ داروں کو بھی دے سکتا ہے۔پکا کر دعوت بھی کر سکتا ہے۔غریبوں کو بھی اس میں سے حصہ دینا چاہیئے۔اگر بامر مجبوری دو جانور ذبح نہ کر سکے تو ایک پر بھی کفایت کر سکتا ہے۔نمازیں جمع کرنا بیماری بسفر بارش طوفان با دو باراں سخت کیچڑ سخت اندھیرے میں جبکہ مسجد میں بار بار آنے جانے کی دقت کا سامنا ہو۔اسی طرح کسی اہم دینی اجتماعی کام کی صورت میں ظہر و عصر مغرب اور عشاء کی نماندوں کو جمع کیا جا سکتا ہے۔جماعت سے بھی اور اکیلے بھی۔جمع تقدیم یعنی ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر اور جمع تاخیر یعنی عصر کے وقت میں ظہر اور عصر دونوں صورتیں جائز ہیں۔اسی طرح مغرب کے وقت میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنا جمع تقدیم ہے اور عشاء کے وقت میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکھٹی پڑھنا جمع تاخیر ہے لیکہ نمازیں جمع کرنی ہوں تو ایک آذان کافی ہے البتہ اقامت ہر ایک نمازہ کے لئے الگ الگ ہوگی۔:- تمندی باب كراهية اكل الاضحية فوق ثلثة ايام سه : - ابن ماجه باب الحقیقہ م ؟ ه: ابن ماجہ باب الحقيقه مث : - تریدی باب في المتطوع في السفر :