فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 165
۱۶۵ واقعہ نہ ہو۔ورنہ یہ کوئی لازمی شرط نہیں کہ اس کے بغیر جمعہ نہ ہو سکے۔پس اگر بہولت انتظام ہو سکے اور کسی گڑبڑ کا خطرہ نہ ہو تو جمعہ کا پڑھنا ضروری ہے خواہ شہر ہو یا کوئی گاؤں وہاں حکومت کا کوئی یا اقتدار نمائندہ ہو یا نہ ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ہمیشہ جمہ پڑھا ہے۔خواہ آپ کسی شہر میں ہوتے یا گاؤں میں۔کیونکہ یہ قرآن کریم کا حکم ہے اور قرآن کے ہر حکم پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ عمل کر تے تھے۔غرض جمعہ کا پڑھنا ایک عمومی حکم ہے چنانچہ صحیح مسلم کی روایت ہے :- إن النبي صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " هَمَمْتُ أنْ أمُرَ رَجُلاً يُصْلِي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُخْرِقَ عَلَى رِجَالِ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بَيُوتَهُمْ " له حضرت جابہ روایت کرتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسّلام نے فرمایا :- إِنَّ اللَّهَ لَقَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْجُمُعَةَ فِي مَقَامِي هَذَا فِي شَهْرِى هَذَا نِي مَا فِى هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَرِيضَةَ مَكْتُوبَةٌ لِمَنْ وَجَدَ إِلَيْهَا سَبِيلاً - له ابن عباس فرماتے ہیں :- كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحِتُ عَلَى فِعْلِ الْجُمُعَةِ في جَمَاعَةٍ اكْتَرَ مِنْ غَيْرِهَا - له یہ تمام حوا لے اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ جمعہ جب بھی پڑھا جائے وہ بحیثیت فرض کے ہوگا۔اس کا نفل ہونا کسی درجہ میں بھی سمجھ نہیں۔اسی طرح نماز جمعہ نمازہ ظہر کا بدل ہے جیسے جمعہ پڑھا ہے اس کے لئے ظہر کا پڑھنا بلا وجہ ہوگا اور شرعی امور میں عمل بالرائے۔اور یہ دونوں امر ایک مومن کی شان سے بعید ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل صحابہ کرام کا دستور قرون اولی کے مسلمانوں کا اجماع اس امر پر شاہد ہیں کہ جمعہ پڑھنے کی صورت میں کسی نے بھی ظہر کی نماز منفرد یا جماعتی رنگ میں نہیں پڑھی۔کسی روایت میں بھی اس کا ذکر نہیں آتا۔بلکه تمام روایتوں سے یہی پتہ چلتا ہے کہ نمانہ جمعہ سقوط ظہر کا باعث ہے۔جو شخص اس امر کا مدعی ہے کہ جمعہ پڑھنے کے بعد ظہر کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔یا ظہر کا پڑھنا ضروری ہے مسند احمد صات فنیل الاوطار ٣٣٥ : له كشف الغمر باب صلاة الجمعه ۲۳ : ۳ : كشف العمر ص ۳۳ :