فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 158
۱۵۸ اور اخوت پیدا کرنے کی غرض ہے وہ مفقود ہو جاتی ہے۔دوسرا نقص یہ واقع ہو سکتا ہے کہ لوگ قرآن کریم یاد کرنا چھوڑ دیں وہ یہی خیال کر لیں کہ ہمیں قرآن کریم یاد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔جب قادیان کی مسجد میں قرآن پڑھا جائے گا تو ہم بھی سُن لیں گئے۔اس طرح چونکہ قرآن کریم کے علم سے توجہ ہٹ جاتی ہے اس لئے اس طریق پر نمازیں پڑھنا جائزہ نہیں۔لے غیر معمولی علاقوں میں نماز کے اوقات (3) نماز کی فرنیت دنیا کے ہر علاقہ میں قائم ہے اور کسی علاقہ کے غیر معمولی حالات کی وجہ سے یہ فرضیت ساقط نہیں ہو سکتی۔(ب) غیر معمولی علاقوں میں نمانہ کے اوقات اندازہ سے مقرر ہوں گے اور اوقات کی پابندی لفظاً Y نہیں ہوگی۔۔نماز کے اوقات کے لحاظ سے غیر معمولی علاقے۔غیر معمولی علاقوں سے مراد وہ علاقے ہیں :- (الف) جہاں دن رات چوبیس گھنٹوں سے زیادہ کے ہیں۔(ب) جہاں دن رات اگرچہ چوبیس گھنٹوں کے ہیں لیکن ان میں باہمی فرق اتنا کم ہے کہ وہاں قرآن و سنت کی رو سے نمازوں کے پانچ معروف اوقات کی واضح تفریق ممکن نہ ہو مثلاً وہ علاقے جہاں شفق شام اور شفق صبح کے درمیان واضح امتیاز نہ ہو سکے۔گویا در میان میں غسق حائل نہ ہو۔سال کے جن ایام میں یہ حرج واقع نہ ہو۔ان میں معروف شرعی اوقات کی پابندی ضروری ہو جائے گی اور ان ایام کے لئے وہ علاقے غیر معمولی قرار نہیں دیئے جائیں گے۔غیر معمولی علاقوں میں نمازہ کے اوقات مندرجہ ذیل اصولی ہدایات کی روشنی میں وہاں کے مقامی لوگ باہمی مشورہ سے متعین کریں گے۔(الف) موقتہ نمازوں کے اصل اوقات وہی ہیں جو طلوع و غروب اور سورج کے دوسرے انقی تغیرات کے مطابق عام معروف طریق سے متعین ہوتے ہیں۔اس لئے جن نمازوں میں مکن ہو اسی طریق کی پابندی کی جائے۔له : المفضل ۱۳ را پریل ۱۹۳۱ ۶ :