فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 137
١٣ دو ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے مولانا عبدالکریم صاحب مرحوم نماز نہ پڑھا سکے۔حضرت خلیفتہ ایسی اول بھی موجود نہ تھے۔تو حضرت صاحب نے حکیم فضل دین صاحب مرحوم کو نماز پڑھانے کے لئے ارشاد فرمایا۔انہوں نے عرض کیا کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں ؟ حضور نے فرمایا حکیم صاحب آپ کی نمازہ با وجود اس تکلیف کے ہو جاتی ہے یا نہیں ؟ انہوں نے عرض کیا۔ہاں حضور۔فرمایا کہ پھر ہماری بھی ہو جائے گی آپ پڑھائیے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے اخراج ریح جو کثرت کے ساتھ جاری رہتا ہے۔یہ نواقض وضو میں نہیں سمجھا جاتا " ہے نابالغ امام سوال :۔کیا ایک بچہ دوسرے بچوں کو نماز باجماعت پڑھا سکتا ہے؟ جواب : - ایک نابالغ مگر سمجھدار بچہ کی امامت جائز ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں خواہ مقتدی بڑی عمر کے ہوں اور ان میں کوئی اچھا پڑھا لکھا نہ ہو جماعت کرانا نہ جانتا ہو لیکن چھوٹی عمر کا بچہ سمجھدار ہو۔قرآن خوب پڑھ سکتا ہو۔نماز کے مسائل سے واقف ہو تو وہ نابالغ ہونے کے یا وجود امام بن سکتا ہے۔حضرت عمرو بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے ایام میں میری عمر چھ سات سال کی تھی اس زمانہ میں بڑی کثرت سے قبائل مسلمان ہو رہے تھے۔ہمارے قبیلہ میں سب سے پہلے میرا باپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے قبیلہ کی نمائندگی میں اسلام قبول کیا۔واپس آکر اس نے لوگوں کو حضور کی ہدایات سنائیں کہ اتنی نمازیں فلاں فلاں وقت میں پڑھی جائیں۔نماز کے وقت اذان دی جائے اور تم میں سے جو زیادہ قرآن جانتا ہو وہ امام بنے۔میری عمر اگر چہ چھوٹی تھی لیکن سب سے زیادہ میں قرآن جانتا تھا کیونکہ مجھے علم کا شوق تھا اور مسلمانوں کے جو قافلے ہمارے قریب سے گزرتے اُن کے پاس جا کر میں اُن سے قرآنِ کریم سنتا اور یاد کر لیتا تھا۔چنانچہ لوگوں نے مجھے ہی امام بنالیا۔میری چادر بالکل چھوٹی تھی جب - سيرة المهدی حصہ سوئم مالا روایت ۶۵۳ گر