فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 136
معذور امام ال: کیا معذور شخص امام الہ لیتے ہیں کیا ہے ؟ ☐ ☐ مقبول ہو۔جو شخص خود معذور ہے مثلاً کوجہ بیماری وہ رکوع و سجدہ نہیں کر سکتا تو اس کو امام مقررہ نہیں کرنا چاہیئے۔جس شخص کی امامت کو لوگ پسند نہ کرتے ہوں۔اگر وہ خود امام بن کر نماز پڑھائے تو اس کی نمازہ نہیں ہوگی۔ثواب کی بجائے وہ گناہ کا مرتکب ہوگا۔حدیث میں آتا ہے :- ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول ثلاثة لا يقبل الله منهم صلوة من تقدم قومًا وهم له كارهون ورجل اتى الصلوة دبارًا والدبار أن ياتيها بعد ان تفوته ورجل اعتبد محررا " ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تین شخصوں کی نماز قبول نہیں ہوتی ، جو شخص قوم کا امام الصلوۃ بنے حالانکہ لوگ اس کو نا پسند کرتے ہوں۔دوسرے وہ شخص جو بعد از وقت نماز پڑھنے کا عادی ہے۔تیسرے وہ شخص جس نے آزاد کو غلام بنا لیا ہو اور اس سے غلاموں کی طرح کام لیتا ہو۔امام ایسے شخص کو مقرر کرنا چاہیے جو متقی ہو۔مسائل نمازہ جانتا ہو۔عمدہ طریق پر قرآن کرتا ہو۔اکثریت اُسے پسند کرتی ہو۔سوال: - ایک شخص کا پیشاب بوجہ بڑھا پایا ہماری نکل جاتا ہے مگر نہایت نیک اور باخدا شخص ہے۔آیا ایسا شخص امام بن سکتا ہے ؟ جواب :۔اصول یہ ہے کہ اگر ایک شخص تقوی اور علم میں ممتاز ہو اور امام مقرر ہو یا اسے امامت کرے کے لئے کہا جائے تو معذور ہونے کے باوجود بھی وہ امام بن سکتا ہے اس کی امامت کسی درجہ میں بھی مکروہ نہیں۔تاہم خود ایسے شخص کو جہاں تک اس کی اپنی مرضی کا سوز ہے امام بننے سے بچنا چاہیے تاکہ دوسرے خواہ مخواہ وہم نہ کریں۔سیرۃ المہدی میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اسے لکھتے ہیں :- ه: - سنن ابی داؤد باب الرجل يوم القدم وهم له كارهون :