فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 95 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 95

۹۵ کھانے کے بعد کلی کئے بغیر نماز پڑھنا کوئی چیز مثلاً پانی منہ میں دبا کر نماز پڑھنا۔پہلی رکعت میں قرآن کریم کا جو حصہ پڑھا ہے دوسری رکعت میں جان بوجھ کہ بلا کسی عذر کے اسی پہلا حصہ پڑھنا۔نماز با جماعت کی صورت میں امام سے پہلے رکوع یا سجدے سے سر اٹھانا۔ان میں سے کوئی بھی بات نماز میں کرنا نا پسندیدہ ہے۔اس سے نماز کا حسن داغدار ہوتا اور ثواب میں کمی آجاتی ہے۔نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنا منع ہے۔گزرنے والا گنہگار ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شیطان کہا ہے۔آگے سے گزرنے والے کو بشر طیکہ وہ بہت قریب۔گزر سے روکنا چاہیے۔لیکن اگر روکنے کے باوجود گزر جائے تو نماز پڑھنے والے کی نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہو گا نہ وہ ٹوٹے گی اور نہ مکروہ ہوگی۔اگر نماز پڑھنے والے کے آگے سے گزرنے کی اشد ضرورت ہو تو آگے کی دوسری صف سے گزرسکتا ہے گویا نمازی اور اس کی سجدہ گاہ یا کھڑے کئے ہوئے سترہ کے درمیان سے گذرنا بہر حال منع ہے۔نماز پڑھتے ہوئے اگر کوئی موذی جانور سامنے آجائے جیسے سانپ ، بچھو ، کتا وغیرہ تو حالت نماز میں اُسے مار دینے یا پرے ہٹا دینے کی اجازت ہے اس سے نماز میں کوئی نقص اور حرج واقع نہیں ہوگا۔(۶) مبطلات نماز مبطلات، مبطل کی جمع ہے یعنی وہ بات جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔نمازہ کو توڑنے والی باتیں یہ ہیں :۔نماز کی کسی شرط یا اس کے کسی رکن یا واجب کو بلا کسی عذر کے جان بوجھ کر چھوڑ دینا۔نماز پڑھتے وقت جان بوجھ کر کسی سے بات کرنا اسلام کا جواب دینا۔ادہر ادہر منہ پھیر کر دیکھنا یا کھل کھلا کو مہنس پڑنا ی نماز کے منافی کوئی اور کام کرنا۔نمازمیں وضو کا ٹوٹ جانا۔سنتر کھل جانا جیسم یا کپڑے کو کوئی نجاست لگ جانا۔ان میں سے کوئی صورت ہو نما نہ ٹوٹ جائے گی۔اس لئے نئے سیر سے سے نماز پڑھنا ضروری ہوگا۔بے اختیار وضو ٹوٹ جانے کی صورت میں ایسا ہو سکتا ہے کہ خاموشی سے کسی سے بات کئے بغیر انسان جاکہ جلد جلد وضو کر سے اور پھر اُسی جگہ سے آکر نماز شروع کر دے جہاں چھوڑ گیا تھا۔