فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 434

فضائل القرآن — Page 82

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ کے یہ معنی ہیں کہ صرف خدا ہی باقی رہنے والا ہے جو جلال اور اکرام والا ہے۔مگر آگے آتا ہے فَبِأَنِ الآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِين تم خدا کی کون کونسی نعمت کا انکار کرو گے۔اب اس موقع پر کس نعمت کا ذکر تھا ؟ کہ یہ کہا گیا۔کیا مرنا اور فنا ہونا بھی ایک نعمت ہے؟ موت کا فلسفہ 82 لله اس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ فنا بھی انسان کے لئے ایک انعام ہے۔جہاں دیگر مذاہب نے فنا کو سز ا قرار دیا ہے وہاں قرآن نے اسے انعام ٹھہرایا ہے۔چنانچہ دوسری جگہ آتا ہے۔تبرك الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَنِي قَدِيرُ نِ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ اسے یعنی سب برکتوں والا خدا ہی ہے جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے اور یہ ہر بات پر قادر ہے۔وہ برکتوں والا خدا ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا۔یہ اس لئے کہ انسانوں کے اعمال کا امتحان لے اور ان کے نیک نتائج پیدا کرے وہ غالب ہے اور غفور ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے موت وحیات کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُم اَحْسَنُ عَمَلًا۔پس موت ضروری تھی کیونکہ موت کے بغیر انسانی اعمال کے نتائج پیدا نہیں ہو سکتے تھے۔اس لئے کہ زندگی میں ایک انسان جو اچھے عمل کرتا ہے اگر اسے ان کا بدلہ اسی دنیا میں مل جائے اور جو بدیاں کرتا ہے ان کی اسے یہاں ہی سزا دے دی جائے تو پھر کوئی نبیوں کا انکار کیوں کرے۔بلکہ فوری جزا سزا کو دیکھ کر سب مان لیں۔لیکن انعام مشقت او محنت کے بعد ملا کرتا ہے۔اگر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی اسی دنیا میں موجود ہوں اور خدا تعالیٰ نے مرنے کے بعد جو درجات انہیں دیئے ہیں وہ اسی دنیا میں مل گئے ہوں تو پھر ان کا کون منکر رہ سکتا ہے۔یا فرعون اور ابو جہل اگر کفر کی وجہ سے اسی دنیا میں آگ میں جل رہے ہوتے تو کون انکار کرتا۔اس طرح تو ایمان لانے والوں کو کوئی محنت اور کوشش ہی نہ کرنی پڑتی۔لیکن انعام محنت اور کوشش کے بعد ہی ملا کرتا ہے۔پس ضروری تھا کہ انعام دینے کے لئے ایک اور دنیا ہو اور وہ ان آنکھوں کے سامنے نہ ہو جس کی وجہ سے لوگ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے۔پس فرما یا خَلقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوة لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ