فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 434

فضائل القرآن — Page 81

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 81 پیدائش کی خوبیاں بتاتا ہے۔انسانی طاقتوں اور قوتوں کا ذکر کرتا ہے اور تحریک کرتا ہے کہ ان سے کام لو اور ترقی کرو۔اس کے ساتھ ہی یہ بتاتا ہے کہ ان باتوں سے بچو ورنہ ترقی سے محروم رہ جاؤ گے۔یہ ایسی باتیں ہیں جن سے ہر سلیم الفطرت انسان متاثر ہوتا ہے۔غرض ظاہری حسن میں بھی قرآن کریم ایک افضل کتاب ہے اور اس کی عبارت کو پڑھ کر انسان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ہاں جو لوگ قصوں کے شیدا ہیں ان پر اس کی عبارت بیشک گراں گذرتی ہے۔قرآن کریم میں تکرار پائے جانے کا اعتراض قرآن کریم کی ظاہری خوبیوں کے متعلق جو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کے میں جواب دے چکا ہوں۔اب ایک اعتراض باقی رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ قرآن ایک ایک فقرہ کو بار بار دہراتا ہے۔اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ دہرانے کا اعتراض قرآن کریم پر عیسائیوں اور ہندوؤں کی طرف سے کیا جاتا ہے لیکن خود ان کی الہامی کتابیں اس کی زد میں آتی ہیں۔بائیل میں کئی باتیں بار بار دہرائی گئی ہیں۔چاروں اناجیل میں تکرار موجود ہے۔وہی بات جو متی کہتا ہے مرقس، لوقا اور یوحنا بھی اسی کو دُہراتے ہیں۔اسی طرح ہندوؤں کی کتابوں میں تکرار پایا جاتا ہے۔مثلاً انتصر وید جلد اول کتاب ۲ دعا ۲۷ اور رگ وید جلد اول کتاب اول دُعا ۹۶ میں تکرار موجود ہے۔اگر تکرار قابل اعتراض بات ہے تو ان پر بھی کیوں اعتراض نہیں کیا جاتا۔قرآن کریم پر یہ اعتراض محض نا سمجھی اور نادانی کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔میں اسے واضح کرنے کے لئے ایک آیت لے کر اس کا مطلب بیان کر دیتا ہوں۔کہا جاتا ہے کہ سورۃ الرحمن میں فَبِاتِي الَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بنِ ۳۹ے کا بار بار تکرار ہے اور ایسے موقع پر بھی اسے لایا گیا ہے جہاں اس کا کوئی جوڑ نہیں معلوم ہوتا۔بلکہ الٹ پڑتا ہے جیسے گان مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ T کے ساتھ فَبِأَتِي الَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بنِ آتا ہے۔پادری اکبر مسیح نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ کے یہ معنی ہیں کہ دنیا کا ہر آدمی فنا ہونے والا ہے اور تبقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرَامِ