فضائل القرآن — Page 59
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ کولمبس کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ اسے امریکہ کی طرف جانے کا خیال محض اس وجہ سے پیدا ہوا کہ اس نے ہسپانیہ کے مسلمانوں سے سنا تھا کہ زمین گول ہے۔غرض صوفیاء نے تو زمین کے متعلق لکھا کہ وہ گول ہے مگر ظاہری علوم رکھنے والے اسے نہ سمجھ سکے۔اسی طرح اجرائے نبوت کے متعلق صوفیاء اور اولیاء نے تو لکھا کہ رسول کریم ملی کی غلامی میں نبی آسکتے ہیں۔جیسے محی الدین صاحب ابن عربی آنے والے مسیح کو امتی بھی اور نبی بھی قرار دیتے ہیں لیکن علماء نے اس کا انکار کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چیلنج اب اسی زمانہ میں دیکھ لو کہ ظاہری علوم رکھنے والوں کی سمجھ میں قرآن کریم کی کوئی بات نہ آئی۔انہوں نے معذرت کے نیچے پناہ لینی چاہی اور لکھ دیا کہ قرآن میں خطا بیات ہیں یعنی قرآن نے کئی باتیں ایسی لکھی ہیں جنہیں دوسرے لوگ مانتے تھے۔ان کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن خود بھی انہیں درست قرار دیتا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے رڈ کیا اور اس طرح قرآن کریم کی صداقت ثابت کی۔اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ اعلان کیا کہ کوئی ایسی بات بتاؤ جو روحانیت سے تعلق رکھتی ہو مگر قرآن میں نہ ہو یا قرآن کریم کی بتائی ہوئی باتوں پر جو اعتراض پڑے وہ پیش کرو۔آپ نے قرآن کریم سے ایسی ایسی معرفت کی باتیں نکالیں کہ انہیں پڑھنے والے سر دُھنتے ہیں اور ان لوگوں کی غفلت اور نادانی پر افسوس کرتے ہیں جنہوں نے قرآن کریم کے نہ سمجھنے کی وجہ سے اسے محلّ اعتراض ٹھہرایا۔اب آپ کی جماعت پر بھی خدا تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ جیسے قرآن کریم کے معارف آپ کی جماعت کے لوگ بیان کر سکتے ہیں وہ باقی دنیا کے لوگوں سے پوشیدہ ہیں۔قرآن کریم دعوی کے ساتھ دلیل بھی پیش کرتا ہے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ جن قرآنی علوم اور معارف کا انکشاف ہوا ان میں سے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن کریم جو دعویٰ کرتا ہے اس کی دلیل بھی خود ہی دیتا ہے وہ اپنی امداد کے لئے انسانوں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ورنہ وہ کتاب کس کام کی جو دعوئی ہی دعوی کرتی جائے اور کوئی دلیل نہ دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ وہی کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے 59