فضائل القرآن — Page 30
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔۔30 کے لوگ بھی اپنے اپنے دائرہ میں تکمیل حاصل کریں اس لئے ہر قسم کے احکام جو قرآن کریم میں ہیں کسی نہ کسی صورت میں پہلی کتب میں بھی موجود ہیں اس لحاظ سے قرآن کریم سب کا سب متشابہ ہے۔نماز بھی پہلے مذاہب میں ہے۔روزہ بھی ہے۔حج بھی ہے، زکوۃ بھی ہے اور اس تشابہ کو دیکھ کر بعض لوگ دھو کے میں پڑ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ قرآن کریم کے نزول کا پھر کیا فائدہ ہوا۔عیسائیوں میں سے دینا بیع الاسلام وغیرہ کتابوں کے مصنف اسی گروہ میں شامل ہیں جنہوں نے قرآن کریم کی دوسری کتب سے مشابہت ثابت کر کے قرآن کو جھوٹا قرار دیا ہے۔حالانکہ قرآن کریم نے پہلے سے اس اعتراض کا ذکر کر کے اس کا نہایت واضح جواب دے دیا ہے۔حق یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہ ایک زبر دست حقیقت بتائی ہے کہ ہر ایک آسمانی صحیفہ کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اندر کچھ محکم ہو اور کچھ متشابہ۔متشابہ اس لئے کہ جو صحیفہ پہلی تعلیمات سے بنگلی جُدا ہو جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اس کے یہ معنی ہونگے کہ اس سے پہلے کوئی شخص خدا کا برگزیدہ ہو ہی نہیں۔اور خدا تعالیٰ نے کسی کو ہدایت دی ہی نہیں ، اور یہ باطل ہو گا۔اور محکم اس لئے کہ اگر وہ کوئی جدید خوبی دنیا کے سامنے پیش نہیں کرتا تو اس کی آمد کی ضرورت کیا ہے، پہلی تعلیم تو موجود ہی تھی۔اور کون ہے جو اس اصل کی خوبی کا انکار کر سکے یا اس کی سچائی کو رڈ کر سکے۔مفسرین نے محکم اور متشابہ کی تاویل میں بہت کچھ زور لگایا ہے۔مگر اس حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے انہوں نے بہت کچھ دھوکا کھایا ہے۔اب چونکہ سردی بڑھ رہی ہے اور بادل بھی گھرے ہوئے ہیں اس لئے میں اسی پر اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ آپ لوگوں کو قرآن کریم کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین اس تقریر کے بعد حضور نے تمام مجمع کے ساتھ مل کر دعا کی اور پھر خدا تعالیٰ کے حضور اس امر پر سجدہ شکر ادا کیا کہ اس نے حضور کو کمزوری صحت کے باوجود جلسہ میں شامل ہو کر تقریر کرنے اور پھر سب کے ساتھ مل کر دعا کرنے کی توفیق بخشی۔فَالْحَمْدُ لِلهِ عَلَى ذَلِكَ ) ل الانعام: ۲۶ الحاقة:٤٢