فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 434

فضائل القرآن — Page 383

383 فصائل القرآن نمبر۔۔۔خدا کہتا ہے کہ میں نے ہر چیز مسخر کر دی اور وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ہر چیز تسبیح کر رہی ہے بلکہ حضرت داؤد کے لئے تو صرف یہ کہا گیا ہے کہ پہاڑ اور پرندے تسبیح کرتے تھے مگر ہمارے لئے تو یہ کہا گیا ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب تسبیح کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تسبیح سے مراد یہ ہے کہ ہر چیز یہ ثابت کر رہی ہے کہ خدا بے عیب ہے۔چونکہ اسلام نے دنیا بھر سے عیب دُور کرنے تھے اس لئے مسلمانوں کو یہ بتایا گیا کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ تسبیح کر رہا ہے لیکن حضرت داؤد نے چونکہ صرف جبال سے عیب دُور کرنے تھے اور وہ ساری دنیا کی طرف مبعوث نہیں ہوئے تھے بلکہ ایک محدود مقام کی طرف تھے اس لئے حضرت داؤد کے زمانہ میں صرف جبال نے تسبیح کی لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ سارے جہان کی طرف تھے اس لئے آپ نے فرمایا جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا ، زمین کا ایک ٹکڑا بھی ایسا نہیں جو تسبیح نہیں کر رہا۔اس لئے ہم جہاں جائیں گے وہ مسجد بن جائے گی، پس يُسَبِّحُ اللہ والے مضمون کو داؤد کے مضمون میں محدود کر کے صرف پہاڑوں تک رکھا گیا۔اس لئے کہ رسول کریم صلى الله عليه وسلم مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا في الْأَرْضِ کے لئے تھے اور حضرت داؤد صرف چند جبال کے لئے۔باقی رہا اوبی معہ کے الفاظ سے یہ استدلال کہ پہاڑ حضرت داؤد کے ساتھ ان کی تسبیح میں شامل ہو جاتے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل دنیا کا ذرہ ذرہ تسبیح میں شامل ہے۔کوئی کہے کہ پھر حضرت داؤد کی خصوصیت کیا رہی؟ تو یاد رکھنا چاہئے کہ اس میں تو ان کی کوئی خصوصیت نہیں کہ پہاڑ اُن کے لئے مسخر تھے کیونکہ میں قرآن کریم سے ثابت کر چکا ہوں کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے یہ سب کا سب خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے مسخر کر دیا ہے۔ہاں جس ملک کا خدا تعالیٰ کسی کو بادشاہ بنا دیتا ہے اُس میں اُسے عام انسانوں سے زیادہ عظمت حاصل ہوتی ہے۔پس گوزمین و آسمان کی چیزیں حضرت داؤد کے لئے اسی طرح مسخر تھیں جس طرح عام بنی نوع انسان کے لئے لیکن حضرت داؤد کو ایک زائد خصوصیت یہ حاصل تھی کہ خدا تعالیٰ نے اُن کو بادشاہ بھی بنا دیا تھا۔پس گو تسخیر بعینہ وہی ہے جو ہمارے لئے ہے مگر اس تسخیر کی عظمت میں فرق ہے۔