فضائل القرآن — Page 381
381 فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ اختصار کے لحاظ سے صرف پرندوں کا ذکر کیا گیا ہے۔کہتے ہیں ایک دفعہ بارش نہ ہوئی تو لوگوں نے حضرت سلیمان سے کہا چلیں استسقاء کی نماز پڑھائیں۔حضرت سلیمان نے کہا کہ گھبراؤ نہیں بارش ہو جائے گی کیونکہ ایک چیونٹی پیٹھ کے بل کھڑی ہو کر کہ رہی تھی کہ خدایا ! اگر بارش نہ ہوئی تو ہم مر جائیں گی۔ایک دفعہ وہ وادی النمل میں سے گزرے تو چیونٹیوں کی ملکہ نے سب کو حکم دیا کہ اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ مگر مفسرین نے یہیں تک اپنی تحقیق نہیں رہنے دی انہوں نے چیونٹیوں کے قبیلوں کا بھی پتہ لگایا ہے اور کہتے ہیں جس طرح انسانوں میں مغل، راجپوت اور پٹھان وغیرہ ہوتے ہیں اسی طرح چیونٹیوں کی قومیں اور قبائل ہوتے ہیں۔چنانچہ یہ علم آپ کے کام آئے گا کہ چیونٹیوں کے ایک قبیلے کا نام شیسان ہے جو مفسرین نے لکھا ہے۔وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان کی جو سردار چیونٹی تھی وہ ایک پاؤں سے لنگڑی تھی اور اُس کا قد بھیٹر کے برابر تھا۔یہ وہ واقعات ہیں جو استعارہ اور تشبیہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مفسرین کو گھڑنے پڑے ہیں۔حالانکہ بات بالکل صاف تھی۔چنانچہ میں باری باری ہر واقعہ کو لیتا ہوں اور سب سے پہلے میں حضرت داؤد علیہ السلام کا قصہ لیتا ہوں۔پہاڑوں کی تسخیر سے کیا مراد ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے داؤد کے لئے پہاڑوں کو مسخر کر دیا جو تسبیح کرتے تھے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا ایسے قصوں کی ضرورت ہے؟ حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق اگر خدا نے یہ کہا ہے کہ ہم نے اُس کے لئے پہاڑ مسخر کر دیئے تو اللہ تعالیٰ ہمارے متعلق بھی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اللهُ الَّذِي سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِى الْفُلْكُ فِيْهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ إنَّ فِي ذلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ لا یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے مومنو! اور اے کا فرو اور منافقو ! ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے سمندر مسخر کر دیئے ہیں جس میں کشتیاں اُس کے حکم سے چلتی ہیں تا کہ تم خدا کا فضل تلاش کرو اور صرف سمندر ہی نہیں آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ بھی ہم نے تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے اور اس میں غور و فکر کرنے والوں کے