فضائل القرآن — Page 380
فصائل القرآن نمبر۔۔۔380 ورود اور جن بھی اور حیوانات بھی سب سُبْحَانَ اللهِ ، سُبْحَانَ اللهِ کہنے لگ جاتے۔جیسے کشمیری واعظوں کا دستور ہے کہ لیکچر دیتے ہوئے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد سستانے کے لئے کہہ دیتے ہیں پڑھو درود وہ بھی گویا اسی طرح کرتے تھے۔جب خود ذکر الہی کرتے کرتے تھک جاتے تو کہتے ہمالیہ پڑھو درود اور وہ درود پڑھنے لگ جاتا۔پھر جب انہیں آرام آجاتا تو کہتے چپ کرو اب میں خود پڑھتا ہوں۔بعض کہتے ہیں پہاڑوں وغیرہ کا سُبحان اللہ کہنا کونسی بڑی بات ہے وہ تو با قاعدہ رکوع وسجود بھی کرتے تھے۔جب حضرت داؤد سجدہ میں جاتے تو سارے پہاڑ ، پرند اور چرند بھی سجدہ میں چلے جاتے اور جب وہ رکوع کرتے تو سب رکوع کرنے لگ جاتے۔بعض کو اس تاویل سے بھی مزا نہیں آیا وہ کہتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ حضرت داؤد جہاں بھی جاتے پہاڑ آپ کے ساتھ چل پڑتے۔حضرت داؤد تو شام میں تھے اور یہ ہمالیہ، شوالک اور اپس سب آپ کے ساتھ ساتھ پھرا کرتے تھے۔اسی طرح پرندے بھی مل کر تسبیح کرتے تھے۔اُن دنوں چڑیاں بھی چوں چوں نہیں کرتی تھیں، بکریاں میں میں نہیں کرتی تھیں بلکہ سُبحان الله ، سُبحان اللہ کیا کرتی تھیں۔کوئی یہ نہ پوچھے کہ بکری کس طرح پرندہ ہو گیا؟ کیونکہ تفسیروں میں اسی طرح لکھا ہے۔غرض وہ عجیب زمانہ تھا۔اسی طرح سلیمان پر خدا تعالیٰ نے ایک اور مہربانی کی اور وہ یہ کہ جن اُن کے حوالے کر دیئے جو اُن کے اشارے پر کام کرتے۔جب چلتے تو پرندے اُن کے سر پر اپنے پر پھیلا کر سایہ کر دیتے۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نَعُوذُ بِاللہ حضرت داؤد بڑے شکی طبیعت کے آدمی تھے۔جب کہیں باہر جاتے تو اپنی بیویوں کو گھر میں بند کر کے جاتے۔ایک دفعہ گھر میں آئے تو دیکھا کہ ایک جوان مضبوط آدمی اندر پھر رہا ہے۔وہ اُسے دیکھ کر سخت خفا ہوئے اور کہنے لگے۔تجھے شرم نہیں آتی کہ اندر آ گیا ہے۔پھر اُس سے پوچھا کہ جب مکان کے تمام دروازے بند تھے تو تو اندر کس طرح آگیا ؟ وہ کہنے لگائیں وہ ہوں جسے دروازوں کی ضرورت نہیں۔آپ نے پوچھا کیا تو ملک الموت ہے؟ اُس نے کہا ہاں اور یہ کہتے ہی اُس نے آپ کی جان نکال لی۔حضرت سلیمان علیہ السلام کو جب دفن کرنے لگے تو تمام پرندے اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے آپ پر اپنے پروں سے سایہ کیا۔کہتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام تمام پرندوں کی بولیاں جانتے تھے۔کسی نے کہا کہ کیا جانوروں کی بولیاں جانتے تھے یا نہیں؟ تو مفسرین نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ جانتے تو تھے مگر