فضائل القرآن — Page 378
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔378 کے بھی۔گویا ہر ایک کی الگ الگ کمپنی تھی۔حَتَّی اِذَا آتَوْا عَلَى وَادِ النَّمْلِ۔پھر حضرت سلیمان اپنا شکر لے کر چلے یہاں تک کہ وہ وَادِ النَّمْلِ یعنی چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے۔ایک چیونٹی نے انہیں دیکھ کر کہا اے چیونٹیو! اپنے اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ ایسانہ ہو کہ سلیمان اور اس کا لشکر غیر شعوری حالت میں تمہیں اپنے پیروں کے نیچے مسل دیں۔حضرت سلیمان اُس کا یہ قول سُن کر ہنس پڑے اور انہوں نے کہا اے میرے خدا! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کر سکوں۔وہ نعمتیں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیں اور یہ کہ میں نیک کام کروں جن سے تو راضی ہو جائے اور مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں داخل فرما۔پھر حضرت سلیمان نے جب پرندوں والے لشکر کی دیکھ بھال کی تو فرمایا یہ کیا بات ہے کہ بد بد نظر نہیں آتا۔میں اُسے سخت عذاب دونگا ور نہ وہ دلیل پیش کرے اور وجہ بتائے کہ کیوں غیر حاضر ہوا ؟ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ہد ہد آ گیا اور اُس نے کہا کہ حضور! ناراض نہ ہوں۔میں ایسی خبر لایا ہوں جس کا آپ کو علم نہیں۔میں سبا کے ملک سے ایک یقینی خبر لایا ہوں اور وہ یہ کہ میں نے وہاں ایک عورت کو دیکھا جو اُن کی ساری قوم پر حکومت کر رہی ہے اور ہر نعمت اُسے حاصل ہے اور اُس کا ایک بڑا تخت ہے اور میں نے اُسے اور اُس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے اور شیطان نے اُن کے اعمال اُن کو خوبصورت کر کے دکھائے ہیں اور اُن کو بچے راستہ سے روک دیا ہے جس کی وجہ سے وہ ہدایت نہیں پاتے اور اس بات پر مصر ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کریں گے وہ اللہ جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ تقدیر کو ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہوا سے جانتا ہے حالانکہ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ ایک بڑے تخت کا مالک ہے۔حضرت سلیمان نے کہا اچھا ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ بولا ہے یا تو جھوٹوں میں سے ہے۔تو میرا یہ خط لے جا اور اسے اُن کے سامنے جا کر پیش کر دے اور پھر ادب سے پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو جا اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔اس قسم کا مضمون سورہ سبار کوع ۲ میں بھی آتا ہے جہاں اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوَدَمِنَّا فَضْلًا يُجِبَالُ اَوِبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ : وَالنَّالَهُ الْحَدِيدَ أَنِ اعْمَلُ سَبِغْتٍ وقَدِرُ في السَّرْدِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا، إنّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرُ سے یعنی ہم نے داؤد پر بھی بڑا فضل کیا اور اُس کے زمانہ میں ہم نے پہاڑوں سے کہا کہ اے پہاڑو! اس کے ساتھ چلو اور