فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 434

فضائل القرآن — Page 374

فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔374 ہے چنانچہ بائیمیل منگوا کر اس کے سامنے رکھی گئی اور وہ باب نکال کر اُسے دکھا یا گیا۔وہ سارا دن سر ڈالے بار بارا سے پڑھتی اور سوچتی رہی۔آخر مجھے کہنے لگی یہ بات میری عقل سے باہر ہے۔میں کسی پادری کو اس کے متعلق لکھوں گی اور جو جواب اس کا آئے گا وہ میں آپ کو بتاؤں گی۔میں نے کہا پادری بھی اس کا مطلب کچھ نہیں بتا سکتا مگر خیر اس نے ایک پادری کو خط لکھ دیا۔کوئی دو مہینے کے بعد اُس کا جواب آیا مگر وہ بھی اُس نے خود نہیں لکھا بلکہ اس کی کسی سہیلی سے لکھوایا اور جواب یہ تھا کہ اگر سچ سچ تمہیں اسلام پسند آ جائے تو اسے اختیار کر لو ورنہ قومی مذہب ہی اچھا ہوتا ہے اور اس قسم کی باتیں جو بائیل میں آتی ہیں یہ ہر ایک کو سمجھانے والی نہیں ہوتیں۔تو اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک استعارہ تھا مگر چونکہ اندرونی شہادت موجود نہیں اور اس کی تشریح کے لئے جو نبی آیا کرتے تھے اُن کا سلسلہ بند ہو گیا اس لئے لوگوں کے لئے ان باتوں کا سمجھنا بڑا مشکل ہو گیا لیکن قرآن نے اپنے استعارات کے حل کے متعلق دونوں شہادتیں رکھی ہیں یعنی اندرونی بھی اور بیرونی بھی۔پس پہلی کتب اور قرآن کریم میں یہ فرق ہے کہ گو تشبیہ اور استعارہ دونوں کتب میں استعمال ہوئے ہیں مگر پہلی کتب سے جو غلطی پیدا ہو جاتی تھی وہ ان کتب سے دُور نہیں ہوسکتی تھی مگر قرآن کریم کی کسی بات سے اگر کوئی غلطی لگے تو وہ قرآن سے ہی دُور ہو سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے استعاروں کو کوئی حقیقت نہیں بنا سکتا اور نہ حقیقت کو استعارہ بنا سکتا ہے۔میں یہ مانتا ہوں کہ اس امر کا امکان ہے کہ کسی وقت مسلمان غلط نہی سے لاکھ دولاکھ یا چار لاکھ کی تعداد میں بگڑ جا ئیں مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ سارے بگڑ جائیں حالانکہ عیسائی سب کے سب بگڑ گئے۔قرآن کریم اپنے استعاروں کو آپ حل کرتا ہے چنانچہ یہ دعوئی جو میں نے کیا ہے کہ قرآن کریم اپنے استعارات کو آپ حل کرتا ہے اس کو قرآن کریم نے خود پیش کیا ہے۔وہ فرماتا ہے هُوَ الذي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ أَيْتُ تُحكَمْتُ هُنَّ أُمُّ الْكِتَبِ وَأَخَرُ مُتَشبِهتْ، فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيْلَةَ إِلَّا الله وَالرَّسِحُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ امَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبَّنَا وَمَا يَذَّكَرُ إِلَّا