فضائل القرآن — Page 350
فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 350 ہوں۔ایک ۱۹۲۸ء میں تمہیدی طور پر میں نے دیا تھا مگر اس وقت طبیعت بہت علیل تھی اس لئے صرف گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ ہی میں نے بعض باتیں بیان کی تھیں۔پھر ۱۹۲۹ء، ۱۹۳۰ء ، ۱۹۳۱ء اور ۱۹۳۲ء میں چار تفصیلی لیکچر میں نے پر دیئے گو بعض اُس وقت بھی چھوڑنے پڑے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک کتاب براہین احمدیہ کھی ہے۔اس میں آپ نے اپنے اس ارادہ کا اظہار فرمایا ہے کہ اسلام کی سچائی اور برتری ثابت کرنے کے لئے میں تین سو دلائل دوں گا۔میں نے جب اس مضمون پر غور کیا تو گو میں نے دلائل کو گنا نہیں مگر میں خیال کرتا ہوں کہ اسلام کی برتری اور فضیلت کے تین سو دلائل ان نوٹس میں موجود ہیں جو میں نے اس مضمون کے سلسلہ میں تیار کئے ہیں۔اگر کوئی شخص میرے ان نوٹوں کو پڑھ لے تو میں سمجھتا ہوں بہت سی باتیں اُس پر واضح ہو جائیں گی۔یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ انسان کی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔میں نہیں جانتا کہ میں اس مضمون کو مکمل بیان کر سکوں یا نہ کر سکوں اس لئے میں نے ذکر کر دیا ہے۔یہ تمام مصالحہ نہایت اختصار کے ساتھ بلکہ بعض جگہ محض اشارات میں ۱۹۲۸ء اور ۱۹۲۹ء میں میں نے جمع کر دیا تھا اور جلسہ سالانہ کے موقع پر انہیں بیان بھی کر دیا تھا۔مجھے اُن دلائل کی تعداد تو یاد نہیں جو بیان کر چکا ہوں اس لئے میں نمبر کا نام نہیں لے سکتا صرف همنا بغیر نمبر دینے کے میں آج فضیلت قرآن کے ایک خاص پہلو کا ذکر کر دیتا ہوں۔اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مضمون کے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی تو اول تو یہ قرآن کریم کی تفسیر کا ایک نہایت اعلیٰ دیباچہ ہوگا دوسرے براہین احمدیہ کی تکمیل بھی ہو جائے گی۔یعنی اُس رنگ میں جس کا شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اظہار فرمایا تھا گو بعد میں اس کی تکمیل اور رنگ میں بھی ہو گئی یعنی وحی اور الہام اور آپ کی ماموریت اور نبوت کی شان نے اسلام کو جس رنگ میں تمام مذاہب پر غالب ثابت کیا وہ تین سو دلائل کے اثر سے بہت بڑھ چڑھ کر ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود بھی تحریر فرما دیا تھا کہ اب یہ سلسلہ تالیف کتاب بوجہ الہامات الہیہ دوسرا رنگ پکڑ گیا ہے اور اب ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں بلکہ جس طرز پر خدا تعالی مناسب سمجھے گا بغیر لحاظ پہلی شرائط کے اس کو انجام دے گا کیونکہ اب اس کتاب کا وہ خود متولی ہے اور اُس کی مشیت کسی اور رنگ میں اس کی تکمیل