فضائل القرآن — Page 339
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 339 رو سے انسان کو کوئی حیوان یا پرندہ یا درندہ بنا دینے سے اس کے لئے اصلاح میں آسانی پیدا کرنا ہے یا مشکل۔انسان کو خدا نے عقل دی۔دولت دی۔بھلائی برائی کی سمجھ دی بدیوں سے بچنے کی طاقت دی مگر اس نے گناہ کیا۔اس پر اُسے بے عقل اور بے وقوف حیوان بنا دیا اور اس طرح اس کے لئے نیکی کرنا اور زیادہ ناممکن کر دیا گیا۔پس انسان کو انسانیت کی بجائے ادنیٰ حالت میں لے جاناخدا کی رحمت کے بالکل خلاف ہے اور اصلاح سے اُسے دُور کرنا ہے اور اگر انسان ہی بنا کر دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تو بھی دو حالتیں ہونگی۔وہ پہلی زندگی سے واقف ہوگا یا نا واقف اگر واقف ہوگا تو اخفا باقی نہ رہا۔پھر نجات کوئی معنے نہیں رکھتی کیونکہ اس پر حقیقت کھل گئی کہ اس وجہ سے مجھے سزا دی گئی تھی اور اگر نا واقف ہوگا تو پھر اصلاح کس طرح کر سکے گا۔ساری عمر اسی چکر میں پڑا رہے گا اور ممکن ہے کہ بجائے نیکی کرنے کے بدی میں اور بڑھ جائے۔پس رحمت کا طریق وہی ہے جو اسلام نے مقرر کیا ہے اور جو یہ ہے کہ جو نیکیاں کر چکا، اگلے جہان میں اُن نیکیوں کو بڑھنے کا موقع دیا جائے اور جو گناہ کر چکا اُس کے زنگ کو جہنم میں دُور کیا جائے تاکہ کم از کم اُس کی آئندہ نجات کی صورت تو پیدا ہو جائے جونوں کے چکر میں تو نہ پڑا رہے۔دوسری چیز جس کی وجہ سے مالکیت کی صفت کے متعلق لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے وہ کفارہ ہے۔یہ غلطی بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کی صفت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔نصاری نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ گناہگار کو بخش دے تو یہ ظلم ہوگا اور وہ کہتے ہیں خدا تعالیٰ چونکہ کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا اس لئے اُس نے اپنے بیٹے کو بھیجا تا کہ وہ لوگوں کے گناہ کے بدلے پھانسی پائے۔یہ خیال بھی مالکیت کی صفت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے کیونکہ مالک تو جسے چاہے بخش سکتا ہے۔وہی نہیں بخش سکتا جو مالک نہ ہو۔ہاں ایک اعتراض ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ اسلام نے تسلیم کیا ہے کہ خدا تعالیٰ بعض گناہ نہ بخشے گا۔لیکن مالکیت کے ماتحت اس کا بھی علاج ہو جاتا ہے۔فرماتا ہے۔فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأَخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَوْذُوا فِي سَبِيلِي وَقَتَلُوا وَقُتِلُوا لَا كَفَرَنَ عَنْهُمْ سَيّاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِن تحتها الأنو ال یعنی وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور انہیں ان کے گھروں سے نکالا گیا اور میری راہ میں تکلیف دی گئی اور وہ لوگ جنہوں نے جنگ کی اور مارے گئے۔اُن کی بدیوں کے اثر کو اُن سے یقینا مٹا دوں گا اور جو