فضائل القرآن — Page 338
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 338 الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ٢٠ یعنی تو ان سے پوچھ کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے اور کون اس کا مالک ہے۔اس کا جواب وہ کیا دیں گے۔تو خود ہی ان سے کہہ دے کہ اللہ ہی اس کا مالک ہے۔اُس نے اپنے نفس پر رحمت فرض کر لی ہے اور اُس نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تناسخ کے چکر میں رُوحوں کو نہیں ڈالے گا بلکہ وہ تم کو قیامت کے دن تک جمع کرتا چلا جائے گا اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال لیا ہے، وہ اپنی بداعمالی کی وجہ سے اس قیامت کے مسئلہ پر یقین نہیں لاتے۔لَيَجْمَعَنَّكُمْ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تناسخ کارڈ کیا گیا ہے کیونکہ فرمایا انہیں ہم قیامت تک رکھیں گے اور لوٹائیں گے نہیں۔اس میں دلیل یہ دی ہے کہ اللہ تعالیٰ مالک ہے اور مالک کا اختیار ہے کہ جس چیز کو جس مقام پر چاہے رکھے۔کیا مالک کو کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس چمڑے کی جوتی کیوں بنائی۔بیٹی کیوں نہیں بنائی۔یا یہ کہ سکتا ہے کہ ایک ہی قسم کے لٹھے کے ایک ٹکڑے کا پاجامہ اور دوسرے کا گرتا کیوں بنایا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم جو کہتے ہو یہ ظلم ہو گیا کہ ایک کو امیر اور دوسرے کو غریب بنایا۔تم بتاؤ کہ میں ہر چیز کا مالک ہوں یا نہیں اگر مالک ہوں تو میں نے جو کام کسی کے سپر دکیا ، وہی ٹھیک ہے۔اس پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ پھر اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ خدا جسے چاہے بہشت میں بھیج دے اور جسے چاہے دوزخ میں ڈال دے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے مجھے حق حاصل ہے مگر میں نے اپنے اوپر فرض کر لیا ہے کہ میں ایسا نہیں کرونگا۔چنانچہ فرما یا كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أس نے اپنی جان پر رحمت فرض کر لی ہے اور اس وجہ سے باوجود مالک ہونے کے کسی کو تکلیف میں نہیں ڈالتا اور یہی سبب ہے کہ وہ مردوں کو اس دنیا میں واپس نہیں کرتا بلکہ اس نے فیصلہ کا دن یوم قیامت اور فیصلہ کا طریق دوسرا مقرر کیا ہے اور جب ہم غور کرتے ہیں تو واقعہ میں تناسخ رحم کے خلاف اور محشر رحم کے مطابق نظر آتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح تناسخ کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے رحم میں فرق آتا ہے۔تناسخ کی غرض اصلاح بتائی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس چکر میں پڑنے سے رُوح کی اصلاح ہو جاتی ہے مگر انسانی اصلاح حقیقت کے علم سے ہوتی ہے۔جہالت سے نہیں ہو سکتی۔اب غور کرو تناسخ کے