فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 434

فضائل القرآن — Page 295

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 295 صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شوکت سے سارا آسمان چھپ گیا۔آگے بتایا کہ ہم نے بھی زمین کو اس کی حمد سے معمور کرنا ہے اس لئے اے مسلمانو! اب تمہارا کام یہ ہے کہ تم اس نبی پر درود و سلام بھیجو۔آسمان کی شوکت کے متعلق ہمارا کام تھا وہ ہم نے کر دیا۔اب زمین کو حد سے معمور کرنا تمہارے سپرد ہے۔تم اُٹھتے بیٹھتے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور اس طرح صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تسليما پر عمل کرو۔غرض دونوں باتیں پوری ہو گئیں۔آسمان سے فرشتے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اور زمین پر مسلمان اور پھر زمین کا وہ کونسا حصہ ہے جہاں مسلمان نہیں ہیں۔اس پھر طرح زمین بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمد سے معمور ہوگئی۔چوتھی پیشگوئی یہ بیان کی کہ مری اس کے آگے آگے چلی۔اس کے معنے یہ ہیں۔کہ جدھر اُس نے توجہ کی اُدھر ہی دشمن ہلاک ہو گئے۔یہ پیشگوئی حضرت عیسی پر چسپاں نہیں ہو سکتی کیونکہ مری اُن کے آگے نہ چلی بلکہ بقول عیسائیاں وہ مری کے آگے چلے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ وہ دشمنوں سے بچائے گئے لیکن عیسائی کہتے ہیں اُن کے دشمنوں نے انہیں صلیب پر مار دیا۔پانچویں پیشگوئی یہ کی گئی ہے کہ اُس کے قدموں پر آتشی و با روانہ ہوئی۔بائیبل کے مفتر کہتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہاں جائے گا وبا آئے گی مگر خدا کے کسی مقدس کی یہ علامت نہیں ہوتی۔بعض بائیمیل کے نسخوں میں خصوصا عربی نسخوں میں لکھا ہے۔وَعِنْدَ رِجُلَيْهِ خَرَجَتِ ے کہ اس کے پاؤں کے پاس سے بخار نکل گیا۔یعنی جہاں اُس کا پاؤں پڑے گا وہاں سے بخار نکل جائے گا۔گویا آتشی وبا سے مراد بخار ہے۔یہ بات بھی رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کے متعلق نہایت وضاحت سے پوری ہوئی۔حدیثوں میں آتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے تو وہاں بخار کی بڑی شدت تھی۔حتی کہ اسے یثرب اسی لئے کہتے تھے کہ وہاں ملیریا بخار بڑی شدت سے ہوتا تھا۔جب صحابہ وہاں ہجرت کر کے گئے تو سب کو بخار آنے لگا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بڑی تکلیف ہوئی۔قرآن کریم میں بھی مدینہ کا نام یثرب آتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ يَأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا ، اور یثرب کے معنے عیب اور ہلاکت کے ہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لے گئے اور صحابہ بخار سے بیمار ہو گئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔