فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 434

فضائل القرآن — Page 249

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 249 بعض آیات کو قرار دیا گیا ہے۔ضال کے متعلق تو یہ آیت پیش کی جاتی ہے کہ وَوَجَدَكَ ضَالًا فهدی کے ہم نے تجھے مال پایا پھر ہدایت دی۔اس کا جواب قرآن کریم کی ایک دوسری آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے ضلالت کی کلی طور پر نفی کر دی ہے۔فرماتا ہے۔وَالنَّجْمِ اِذَا هَوَى مَاضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى ٦ے ہم نجم کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔نجم اس بوٹی کو کہتے ہیں جس کی جڑ نہ ہو۔فرمایا ہم اس بوٹی کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جس کی جڑ نہیں ہوتی۔جب کہ وہ گر جاتی ہے یعنی وہ جتنا اونچا ہونا چاہتی ہے اس قدر گرتی ہے۔اس شہادت سے تم سمجھ سکتے ہو کہ تمہارا یہ صاحب کبھی گمراہ نہیں ہوا اور نہ راستہ سے دور ہوا۔ضل ظاہری گمراہی کے لئے آتا ہے اور غوی باطنی فساد کے لئے جو فسادا اعتقاد سے پیدا ہو۔فرمایا جو بے جڑ کی بوٹی ہو اس پر تو جتنے زیادہ دن گذریں اس میں کمزوری آتی جاتی ہے۔اگر محمد رسول اللہ سی ایام کا خدا سے تعلق نہ ہوتا تو اس کی جڑ مضبوط نہ ہوتی اور یہ کمزور ہوتا جاتا اور خرابی پیدا ہو جاتی مگر تم دیکھتے ہو کہ جوں جوں دن گزر رہے ہیں اسے زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل ہورہی ہے اور یہ دن رات ظاہری اور باطنی طور پر ترقی حاصل کر رہا ہے۔اگر ضلالت اس کے اندر ہوتی تو اس پر ضلالت والا کلام نازل ہوتا مگر اس پر جو کلام نازل ہوا ہے اسے دیکھو کیا اس میں کوئی بھی ہوائے نفس کا نشان ملتا ہے اگر یہ غاوی ہوتا تو شیطانی اثر اس کے کلام پر ہوتا لیکن اس کا کلام تو پر شوکت اور قادرانہ کلام پر مشتمل ہے۔شیطانی تعلقات والا انسان دنیا پر تصرف کیسے حاصل کر سکتا ہے۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے سورۃ بھٹی میں بیان کیا ہے۔فرماتا ہے۔وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الأولى کے تیری ہر پیچھے آنے والی گھڑی پہلی سے بہتر ہے۔اب کیا یہ عجیب بات نہیں کہ یہاں تو کہا کہ تیری ہر پچھلی گھڑی پہلی گھڑی سے اچھی ہوتی ہے لیکن اسی سورۃ میں کہہ دیا کہ تو گمراہ تھا۔آیا پچھلی گھڑی کا پہلی سے اچھی ہونا ضلالت کی دلیل ہوتا ہے؟ سورۃ ابراہیم رکوع ۴ میں آتا ہے۔الخ ترَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ا سے کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کیسی باتیں بیان کرتا ہے۔پاک کلمہ کی مثال ایک پاک درخت کی سی ہوتی ہے جس کی جڑ میں بڑی