فضائل القرآن — Page 233
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 233 وَاعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمُ أَخَرُونَ فَقَدْ جَاءَ وَظُلْمًا وَزُورًا - یعنی منکر لوگ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ بنالیا گیا ہے اور کچھ لوگ اس میں مدد دیتے ہیں مگر ان کا یہ اعتراض بالبداہت ظلم اور جھوٹ پر مبنی ہے کیونکہ کیا مسیحی غلام ایسا کر سکتے ہیں کہ خود اپنے دین پر ہنسی کرائیں۔آخر انہیں اس کی کیا ضرورت ہے اور کیا فائدہ ہے کہ وہ اسی بات پر رات دن ماریں کھائیں اور گرم ریت پر گھسیٹے جائیں اور ایک بے فائدہ فریب میں شامل ہوں۔پس ایسے مخلص لوگوں پر یہ اعتراض کر کے ان لوگوں نے ظلم اور جھوٹ سے کام لیا ہے۔یہ ناممکن ہے کہ ایسے لوگ ایسا جھوٹ بنا سکیں۔دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ جن کو تم پرانے قصے سمجھتے ہو وہ قصے نہیں بلکہ آئندہ کے متعلق خبریں اور پیشگوئیاں ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے۔قُلْ انْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السَّرَ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ " تو کہہ دے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو آسمانوں اور زمین کے رازوں سے واقف ہے۔کوئی انسان ایسا کلام نہیں بنا سکتا۔یہ تو غیب کی باتیں ہیں اور غیب خدا ہی جانتا ہے۔اب ان جوابوں کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور مضبوط ہیں اور وہیری کا خیال کس قدر بے معنی ہے۔اگر یہاں بھی وہی اعتراض سورۃ نحل والا ہوتا تو اس کا وہی جواب کیوں نہ دیا جاتا جو وہاں دیا گیا ہے۔آخر کیا وجہ تھی کہ اگر یہی سوال سورۃ نحل میں تھا تو اس کا جواب بقول وہیری کے بیہودہ دیا جاتا۔ایک شخص جو صحیح جواب جانتا ہے اور وہ جواب دے بھی چکا ہے اسے وہ جواب چھوڑ کر اور جواب دینے کی کیا ضرورت تھی۔پس یہ جواب لغو نہیں بلکہ معترضین کی اپنی سمجھ ناقص ہے۔اصل بات یہ ہے کہ سورۃ نحل میں یہ سوال ہی نہیں کہ کوئی اسے مضمون بنا دیتا ہے بلکہ یہ ذکر ہے کہ نادان لوگ ایک ایسے شخص کی نسبت یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ محمد رسول اللہ کو کھا تا ہے جو خود بھی تھا یعنی اپنا مفہوم اچھی طرح بیان نہیں کر سکتا تھا۔صرف تھوڑی سی عربی جانتا تھا۔( عجمی کے یہ بھی معنی ہیں کہ جو اپنا مفہوم اچھی طرح ادا نہ کر سکے چنانچہ لغت میں یہ معنی بھی لکھے ہیں۔) اس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ دوسرے کا قول انسان دو طرح نقل کر سکتا ہے۔ایک تو اس طرح کہ اس کا مطلب سمجھ کر اپنے الفاظ میں ادا کر دے اور دوسرا طریق یہ ہے کہ اس کے الفاظ رٹ کر ادا کر دے جیسے طوطا میاں مٹھو کہتا ہے۔نقل انہی دو طریق سے ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم جانتے ہو کہ جس شخص کی طرف تم یہ بات منسوب کرتے ہو وہ اپنا مطلب عربی زبان میں پوری طرح ادا نہیں کر سکتا۔پس