فضائل القرآن — Page 231
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 231 منسوب کرتے ہیں وہ بجھی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف کسی خاص شخص کا نام لیتے تھے۔پھر یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ وہ شخص معروف تھا اور مسلمان بھی اس شخص کا نام جانتے تھے۔سورۃ فرقان کی آیت اس سے مختلف ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ کفار کسی خاص آدمی کا نام لئے بغیر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک جماعت رسول کریم ملا ہی تم کو کھاتی ہے اور رات دن آپ کے پاس رہتی ہے اور آپ بعض دوسرے لوگوں سے اس جماعت کے بتائے ہوئے واقعات کو لکھوا لیتے ہیں۔یه فرق نمایاں ہے۔ایک میں ایک خاص شخص کا ذکر ہے اور دوسری میں غیر معین جماعت کا ذکر ہے۔ایک میں صرف سیکھنے کا ذکر ہے اور دوسری میں بعض لوگوں سے لکھوانے کا بھی ذکر ہے۔ایک میں محض تعلیم کا ذکر ہے اور دوسری میں پہلوں کے واقعات اور خیالات سے نقل کرنے کا ذکر ہے اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ دونوں جگہ جواب الگ الگ دیا گیا ہے۔یہ فرق اتنے نمایاں ہیں کہ ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب رسول کریم صلہ تھا کہ ہم نے دعوی کیا تو شروع میں ہی بعض غلام آپ پر ایمان لے آئے تھے۔وہ پہلے بت پرست یا عیسائی یا یہودی تھے۔انہیں جب صبح و شام فرصت ملتی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر پہنچ جاتے اور دوسرے صحابہ کے ساتھ دین سیکھتے اور نمازیں پڑھتے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے واقعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک مکان پر یہ اجتماع ہوتا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ ابھی ایمان نہ لائے تھے کہ ایک دن اپنے گھر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کرنے کے ارادہ سے نکلے۔کسی نے پوچھا کہ کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا محمد جو صابی ہو گیا ہے اس کی خبر لینے جارہا ہوں۔اس نے کہا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو۔انہوں نے کہا کیا ہو گیا ہے؟ اس نے بتایا کہ تمہاری بہن اور بہنوئی دونوں مسلمان ہو گئے ہیں۔یہ سن کر وہ اپنی بہن کے گھر گئے اور جا کر دستک دی۔اس وقت ایک صحابی ان کو قرآن پڑھا رہے تھے۔جب انہیں معلوم ہوا کہ عمر ہیں تو صحابی کو چھپا دیا گیا اور بہن اور بہنوئی سامنے ہوئے۔انہوں نے پوچھا کہ کس طرح آئے ہو۔عمر نے کہا بتاؤ تم کیا کر رہے تھے۔میں نے سنا ہے تم بھی صافی ہو گئے ہو۔انہوں نے کہا یہ غلط ہے۔ہم تو صابی نہیں ہوئے۔عمر نے کہا میں نے تو خود تمہاری آواز سنی ہے۔تم کچھ پڑھ رہے