فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 434

فضائل القرآن — Page 212

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 212 مجرموں کو رسالت نہیں مل سکتی۔انہیں تو ذلت ملے گی۔رسالت تو بڑی بھاری عزت ہے۔(۲) جو رسول بنتا ہے وہ پہلے بھی اللہ کا فرمانبردار ہوتا ہے۔الہی احکام کی فرمانبرداری اس کی طبیعت میں داخل ہوتی ہے اور نیک تحریکوں کو قبول کرنے میں وہ پیش پیش ہوتا ہے۔یه گو یا قرآن نے گر بتایا کہ انبیاء کی پہلی زندگی اعلیٰ ہونی چاہئے۔بیشک ایک ایسا شخص ولی ہو سکتا ہے جو ایک زمانہ تک عیوب میں مبتلا رہا ہو اور بعد میں اس نے توبہ کر لی ہو لیکن نبوت کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ہی خاص طور پر اعلیٰ درجہ کی طہارت اسے حاصل ہو۔(۲) اور نبوت کی زندگی کے متعلق فرمایا فَالَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُ بِأَلَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْتَمُونَ " جن لوگوں کو خدا کا قرب حاصل ہوتا ہے۔وہ رات دن اپنے اعمال سے دنیا کو بتاتے ہیں کہ خدا پاک ہے یعنی انہیں جس قدر قرب عطا ہو، اس قدر وہ فرمانبردار ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح اپنے ہر عمل سے ظاہر کرتے ہیں اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ خدا نے یونہی انہیں نہیں چنا۔گویا وہ اپنے اعمال سے خدا تعالیٰ کی پاکیزگی ظاہر کرتے ہیں اور اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ خدا نے غلط انتخاب نہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے کی یا کیز وزندگی اب سوال یہ ہے کہ کیا رسول کریم ملی ایتم کی ذات کے متعلق بھی اس عام قاعدہ کے پورا ہونے کا کہیں ذکر ہے؟ سو اس امر کے متعلق کہ رسول کریم ملایا ہی نہ کی دعوئی سے پہلی زندگی بالکل پاک اور بے عیب تھی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُل لَّوْ شَاءَ اللهُ مَا تَلوتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا آذر یكُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مَنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ سے فرمایا اے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ان سے کہہ دے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں یہ کتاب پڑھ کر تمہیں نہ سنا تا یعنی اگر اللہ چاہتا تو کتاب ہی نہ بھیجتا اور نہ تمہیں اس تعلیم سے آگاہ کرتا۔تمہیں علم ہے کہ میری زندگی کیسی پاکیزہ گذری ہے۔معمولی عمر نہیں بلکہ چالیس سال کا لمبا عرصہ۔تم اسے جانتے ہو اور اس پر کوئی عیب نہیں لگا سکتے۔پھر کس طرح خیال کر سکتے ہو کہ اب میں نے جھوٹ بنالیا۔یہ پہلی زندگی کے متعلق رسول کریم ملی ایام کا اعلان ہے اور کفار کے مقابلہ میں اعلان ہے جس کا وہ انکار نہیں کر