فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 434

فضائل القرآن — Page 189

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 189 مختلف ممالک کے قرآن کریم کے لکھنے کے بوجہ ثواب عادی تھے۔ہندوستان کے بادشاہوں میں سے اور نگ زیب مشہور ہے جس نے کئی نسخے قرآن کریم کے لکھے۔اسی طرح صلیبی جنگوں کے متعلق ایک کتاب حال ہی میں چھپی ہے۔اس میں اسامہ بن منفذ اپنے والد سلطان شہزاد کے متعلق جو شام کی ایک حکومت کے بادشاہ تھے لکھتا ہے کہ وہ یا تو فرنگیوں سے لڑتے یا شکار کھیلتے اور یا پھر قرآن لکھا کرتے تھے۔چنانچہ مرتے وقت ان کے لکھے ہوئے ۴۳ قرآن موجود تھے۔دوسرے معنی سفرة کے سفر کرنے والے کے ہیں۔ان معنوں کی رُو سے یہ مطلب ہوا کہ نہ صرف قرآن کریم بکثرت لکھا جائے گا بلکہ فوراً دنیا کے چاروں گوشوں میں پھیل جائے گا اور اس وجہ سے بگڑنے سے محفوظ ہو جائے گا۔اگر کوئی مصر میں بگاڑنا چاہے گا تو عرب، شام، ہندوستان وغیرہ ممالک میں جو قرآن موجود ہوگا وہ بگاڑ کو رڈ کر دے گا۔غرض فرمایا یہ کتاب سفر کرنے والے بزرگوں کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے تا کہ وہ اسے سارے ملکوں میں لے جائیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں قرآن کریم رسول اللہ لی ﷺ کے زمانہ میں ہی تمام عرب، افریقہ اور ابی سینا میں پہنچ گیا تھا۔پھر رسول کریم سلا السلام کی وفات کے چند سال بعد کے عرصہ میں فلسطین ، شام ، عراق ، فارس اور افغانستان، چین، اناطولیہ، مصر، ہندوستان اور یونان وغیرہ ممالک میں پھیل گیا۔پس ان بے غرض لکھنے والوں اور پھر اس طرح مختلف ممالک میں پھیل جانے کی وجہ سے اس میں کسی تبدیلی کا ہونا ناممکن ہو گیا اور پھر اس میں شک کرنا بھی ناممکن ہو گیا کیونکہ سب ملکوں کے نسخے ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں اور اب تو پریس کے نکل آنے کی وجہ سے اس کی اشاعت کی کوئی حد ہی نہیں رہی۔پھر شروع اسلام میں مسلمانوں میں جو اختلاف ہوا وہ بھی قرآن کریم کی حفاظت کا مؤید ہو گیا۔سفرة کے معنی اونٹ کی ناک میں تکمیل ڈالنے والوں کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے اس کے یہ معنی بھی لئے جا سکتے ہیں کہ مختلف حملہ کرنے والی فوجوں کے افسروں یا جماعتوں کے لیڈروں کے ہاتھ میں یہ قرآن ہوگا جو سب کے سب نیک ہونگے اور اس طرح مختلف مخالف جماعتوں کے ہاتھوں میں قرآن کریم کا بغیر اختلاف کے ہونا اسے بالکل محفوظ کر دے گا اور کوئی جماعت اسے بگاڑ نہیں سکے گی کیونکہ دوسری جماعت فوراً اس پر گرفت کر سکے گی۔