فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 434

فضائل القرآن — Page 171

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 171 یقین کے کمالات کے درجہ تک پہنچنا ایسی ولادت کے بعد ہوتا ہے جو دوسری ولادت ہوتی ہے۔اس کے بعد انبیاء کا ورثہ ملتا ہے۔پھر کہتے ہیں جسے یہ میراث نہ ملے، نہ انبیاء والے علوم ملیں وہ سمجھے کہ اس کی دوسری ولادت نہیں ہوئی۔اگر چہ عقلی طور پر اسے بڑے بڑے لطیفے سو جھیں اور اگر چہ اس میں بڑی ذکاء ہو۔یہ عقل کا نتیجہ ہوگا، روحانیت کا نتیجہ نہیں ہوگا اور عقل ، جب تک خدا کی طرف سے نور نہ آئے روحانیت میں داخل نہیں ہوتی بلکہ نیچر میں ہی رہتی ہے۔پس روحانیت میں بھی یہ جوڑے ہوتے ہیں۔اسی کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے کہ ما مِنْ مَوْلُودٍ يُوْلَدُ إِلَّا وَالشَّيْطَنُ يَمَسُّهُ حِيْنَ يُوْلَدُ فَيَسْتَبِلُ صَارِخًا مِنْ مَشِ الشَّيْطَنِ إِيَّاهُ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا " یعنی ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے اسے شیطان چھوتا ہے جس سے وہ روتا ہے سوائے مسیح اور اس کی ماں مریم کے۔اس سے مراد صرف مریم اور عیسی نہیں بلکہ ہر وہ آدمی جو مریمی صفات والا ہوتا ہے، مراد ہے ور نہ کہنا پڑے گا کہ نَعُوذُ باللہ شیطان نے رسول کریم صلی لا الہ ہم کو بھی چھوا تھا۔اس حدیث میں در اصل رسول کریم مسی ہی ہم نے یہ بتایا ہے کہ دو کامل پیدائشیں ہوتی ہیں۔ایک مریمی پیدائش اور دوسری مسیح والی پیدائش۔جو انسان مریمی صفت لے کر پیدا ہوتا ہے وہ مسیح بنتا ہے اور جو مسیحیت کی صفت لے کر پیدا ہوتا ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بنتا ہے۔مسیحیت کی صفت پر پیدا ہونے والے جلالی نبی تھے اور مریمیت کی صفت رکھنے والے جمالی نبی۔ایک میں عکس کی صفت کامل تھی اور دوسرے میں انعکاس کی۔ایک وہ ہیں جن کی اصل صفت نسوانی ہے اور رجولیت بعد میں کامل ہوتی ہے یعنی ماتحت اور جمالی نبی اور ایک وہ ہیں جو مسیحیت کے وجود سے پیدا ہوتے ہیں اور پھر ان کی نسوانیت مکمل ہوتی ہے۔یہ جلالی نبی یا شرعی نبی ہیں۔غرض روحانی سلسلہ میں بھی جوڑے پائے جاتے ہیں اور کبھی بھی کوئی انسان کامل نہیں ہو سکتا جب تک اس کی رجولیت اور نسائیت کی صفات آپس میں ملیں نہیں اور دونوں صفات مکمل نہ ہو جنہیں ہم دوسرے الفاظ میں اخلاق کا تاثیری یا تاثری پہلو کہہ سکتے ہیں۔جب یہ دونوں پہلو پیدا ہوں تب جا کر وہ نئی روح پیدا ہوتی ہے جو ایک نئی پیدائش کہلاتی ہے اور تاثیر اور تاثر کے ملنے سے ہی روحانیت کو سکون حاصل ہوتا ہے اور انسان اپنے قلب میں اطمینان پاتا ہے یہاں تک کہ اسے