فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 434

فضائل القرآن — Page 158

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ بڑھائے گا۔اس میں بتایا کہ صدقہ دینے والوں کو ہم خود بدلہ دیں گے۔صدقات پر زور لیکن سوال کی ممانعت 158 چودھویں بات یہ بیان کی کہ جہاں صدقات دینے پر اسلام نے زور دیا وہاں چونکہ یہ خیال ہو سکتا تھا کہ مانگنا اچھی بات ہے اس لئے اس کی بھی تشریح کر دی۔چنانچہ مومن کی شان بتائی کہ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِيمُهُمْ لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الحاف ۳۵ یعنی جو شخص اس تعلیم سے واقف نہیں کہ اسلام سوال کو پسند نہیں کرتا وہ ایسے لوگوں کو سوال سے بچنے کی وجہ سے غنی خیال کرتا ہے لیکن جو اس سے واقف ہے، وہ لوگوں کی شکلوں سے تاڑ لیتا ہے اور ان کی مدد کر دیتا ہے۔اس میں بتایا کہ کامل مومن کو سوال نہیں کرنا چاہئے مگر منع بھی نہیں کیا۔یعنی مانگنا قطعی حرام نہیں کیونکہ بعض دفعہ انسان اس کے لئے مجبور ہو جاتا ہے۔چنانچہ رسول کریم مالی نے اسلام کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا مجھے کچھ دیں۔آپ نے دیا۔اس نے پھر مانگا۔آپ نے پھر دیا۔اس نے پھر مانگا آپ نے پھر دیا۔پھر آپ نے فرمایا میں تمہیں ایک بات بتاؤں ؟ اور وہ یہ کہ مانگنا اچھا نہیں ہوتا۔اس نے اقرار کیا کہ آج کے بعد میں کسی سے نہیں مانگوں گا۔ایک صحابی کہتے ہیں ایک جنگ کے دوران اس کا کوڑا گر گیا۔دوسرا شخص اُٹھا کر دینے لگا تو اس نے کہا تم نہ دو۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ ﷺ سے عہد کیا ہوا ہے کہ میں کسی سے کچھ نہیں لوں گا۔اس پر وہ خود اترا اور کوڑا اٹھایا۔تو جہاں اسلام نے صدقات پر اتنا زور دیا ہے کہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیوں نہ لیں وہاں یہ بھی بتا دیا کہ مانگنا نہیں چاہئے۔یہ بات دینے والے پر رکھو کہ وہ تلاش کر کے دے۔یہ صدقات کے متعلق اسلام کی بیان کردہ وہ چودہ باتیں ہیں کہ خواہ باقی مذاہب کی ساری الہامی کتابیں اکٹھی کر لو، تمام فلسفیوں کی کتابیں بھی دیکھ لو ان کی بحث ان میں نہ ہوگی اور میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام کی معمولی سی بات بھی اس رنگ میں نہ انسانی کتابوں میں پائی جائے گی اور نہ الہامی کتابوں میں جس رنگ میں قرآن نے بیان کی ہے۔