حضرت فاطمۃ الزہرہ ؓ — Page 19
خاتون جنت حضرت فاطمتہ الزہراء 66 نہیں ہوسکتیں۔“ (29) 19 رسول اللہ اللہ ہمیشہ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہ کے تعلقات میں خوشگواری پیدا کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔چنانچہ جب حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہ میں کبھی گھریلو معاملات کے متعلق نا رائستگی پیدا ہو جاتی تو آنحضرت علی نے دونوں میں صلح کروا دیتے تھے۔ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ میں اللہ ان کے گھر تشریف لے گئے اور دونوں میں صلح کرا دی اور ان کے گھر سے بہت خوش نکلے۔لوگوں نے پوچھا کہ آپ گھر سے گئے تھے تو اور حالت تھی اور اب آپ ملے اس قدر خوش کیوں ہیں؟ فرمایا میں نے ان دو اشخاص میں صلح کرا دی ہے جو مجھ کو محبوب تر ہیں۔(30) رسول اللہ اللہ کو جیسے اپنی بیٹی سے محبت تھی ویسے ہی اپنے داماد اور نواسوں سے بھی بے حد پیار تھا۔ان سے فرمایا کرتے تھے جن لوگوں سے تم ناراض ہو گئے میں بھی ان سے ناخوش ہوں ، جن سے تمہاری لڑائی ہے ان سے میری بھی لڑائی ہے، جن سے تمہاری صلح ہے ان سے میری بھی صلح ہے۔حضرت علیؓ سے فرمایا کرتے تھے ” اے علی تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔“ فاطمۃ الزہراء کے بیٹوں امام حسنؓ اور حسین کو رسول اللہ علہ نہایت محبت سے بوسے دیتے اور اپنے کندھوں پر اُٹھائے پھرتے تھے۔(31)