حضرت فاطمۃ الزہرہ ؓ

by Other Authors

Page 18 of 29

حضرت فاطمۃ الزہرہ ؓ — Page 18

خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہراء 18 کو اس کا علم ہوا تو اپنے ساتھ اپنی باندی فضہ کو لیا اور اس کے گھر گئیں اور وہاں پہنچ کر خود میت کو غسل دیا اور خود ہی کفن بھی دیا۔(27) سرور دو عالم ﷺ حضرت فاطمۃ الزہراء سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ایک حصہ ہے جو اس کو ناراض کرے گا وہ مجھ کو ناراض کرے گا۔صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت علیؓ نے نحور ا بنت ابو جہل سے نکاح کا ارادہ کیا۔سیدہ النساء سخت آزردہ ہو ئیں۔جب رسول کریم علیہ ان کے پاس تشریف لائے تو حضرت فاطمہ نے عرض کی یا رسول اللہ ہے صلى الله علی مجھ پر سوکن لانا چاہتے ہیں۔حضور ﷺ کے دل پر سخت چوٹ صلى الله لگی۔ادھر نحورا کے عزیز بھی حضور ﷺ سے اس نکاح کی اجازت لینے آئے۔سرور کائنات ﷺے مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا:۔صلى الله آلِ ہشام ( ابو جہل ) علیؓ سے اپنی لڑکی کی شادی کے لئے مجھے سے اجازت چاہتے ہیں لیکن میں اجازت نہ دوں گا البتہ ابن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی لڑکی سے نکاح کر سکتے ہیں۔فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے جس نے اس کو اذیت دی مجھ کو اذیت دی۔(28) پھر فرمایا کہ ” میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے نہیں کھڑا ہوا لیکن خدا کی قسم ایک پیغمبر اور ایک دشمن خدا کی بیٹیاں ایک ساتھ جمع