حضرت فاطمۃ الزہرہ ؓ — Page 15
خاتون جنت حضرت فاطمتہ الزہراء 15 آواز لگائی تو والدہ نے فوراً کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور مجھ سے فرمایا کہ جاؤ یہ کھانا سائل کو دے آؤ۔(23) حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی نے ساری رات ایک باغ کو پانی دیا اور اجرت میں کچھ جو حاصل کئے۔حضرت فاطمہ نے ان کا ایک حصہ لے کر آٹا پیسا اور کھانا تیار کیا۔عین کھانے کے وقت ایک مسکین نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا میں بھوکا ہوں۔حضرت فاطمہ نے وہ سارا کھانا اُسے دے دیا۔پھر باقی اناج کا کچھ حصہ جیسا اور کھانا پکایا۔مگر اتنے میں ایک یتیم نے آ کر کھانے کا سوال کیا۔چنانچہ وہ اُسے دے دیا گیا، پھر باقی اناج پیس کر جب کھانا تیار ہوا تو ایک اور سائل قیدی نے راہ خدا میں مانگا وہ سب کھانا اسے دے دیا گیا۔غرض سب اہلِ خانہ نے اُس دن فاقہ کیا۔اللہ تعالیٰ کو اُن کی یہ ادا ایسی پسند آئی کہ اس سارے گھر کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيمَا وَ أَسِيرًاO ”وہ اللہ کی راہ میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔“ (سورت دھرآیت 8) (24) ایک مرتبہ حضور یہ حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لے گئے۔دیکھا کہ دروازے پر ایک ریکمین پردہ لٹکا ہوا ہے۔اور حضرت فاطمہ کے ،