حضرت فاطمۃ الزہرہ ؓ — Page 14
خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہراء 14 رکھ دی۔وہ کھا چکے تو پھر کھانے بیٹھیں۔(20) یہ وہ زمانہ تھا جب اسلام میں فتوحات کا آغاز ہو چکا تھا۔مدینہ میں مالِ غنیمت آنا شروع ہوا۔ایک مرتبہ مال غنیمت کے طور پر کچھ لونڈیاں بھی آئیں۔حضرت فاطمہ نے گھر کے کام میں مدد کے لئے ایک لونڈی کی درخواست کی۔حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں کنیز نہیں دے سکتا کیونکہ مجھے اصحاب صفہ کے کھانے پینے کا انتظام بھی کرنا ہے۔جنہوں نے اپنا گھر بار چھوڑ کر فقر و فاقہ کی زندگی اختیار کی ہے۔‘ اس ارشاد پر دونوں میاں بیوی گھر لوٹ آئے۔(21) ابن سعد اور حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ رات کو حضور نے ان کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ تم جس چیز کے خواہش مند تھے اس سے بہتر ایک چیز میں تم کو بتاتا ہوں۔دس دس بارسبحان اللہ ، الحمد للہ، اور اللہ اکبر پڑھا کرو اور سوتے وقت 33 بار سبحان اللہ ، 33 بار الحمد للہ اور 34 بار اللہ اکبر پڑھ لیا کرو یہ عمل تمہارے لئے بہترین خادم ثابت ہو گا۔(22) حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ بے حد سخی اور ایثار پسند تھیں۔حضرت امام حسن فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک وقت کے فاقہ کے بعد ہم سب کو کھانا میسر ہوا۔حضرت علیؓ اور حضرت حسین کھا چکے تھے لیکن ابھی والدہ نے نہیں کھایا تھا اور روٹی ہاتھ میں لی تھی کہ دروازے پر سائل نے