فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار — Page 7
مباہلہ کی دعوت امر واقعہ یہ ہے کہ سید نا حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ ۱۰ جون ۱۹۸۸ء کو تمام اشتد ترین معاندین احمدیت اور آئمہ ا لتکفیر کو یکطرفہ دعوت مباہلہ دی جو عمومیت کا رنگ رکھتی تھی اور جس جس حلقہ میں شرائط کے مطابق دعوت قبول کی جاتی معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیا جاتا۔اس عمومی دعوت مباہلہ کو حسب شرائط قبول کر کے خصوصیت کا رنگ دینے کی بجائے منظور احمد چنیوٹی نے روزنامہ جنگ لاہور ۱۷ - اکتوبر ۱۹۸۸ء صفحہ اول کالم نمبر ۴ ۵ میں جوابی چیلنج کے طور پر یہ اعلان شائع کروایا۔ور گلے سال ۱۵ - ستمبر تک میں تو ہوں گا۔قادیانی جماعت زندہ نہیں رہے گی۔مولانا منظور احمد چنیوٹی کا جوابی چیلنج۔ریوه - ( نامہ نگار ) مسلم کالونی ربوہ میں ساتویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ختم ہو گئی۔۔۔۔مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ میں نے ۱۵ - ستمبر کو مرزا طاہر احمد کے مباہلے کا چیلنج قبول کیا تو ایک قادیانی نے مجھے کہا کہ تم ۱۵ - ستمبر ۱۹۸۹ء تک زندہ نہیں رہو گے۔انہوں نے کہا کہ میں اس سٹیج سے اعلان کرتا ہوں کہ میں ۱۵۔ستمبر ۱۹۸۹ء تک زندہ رہوں گا تاہم قادیانی جماعت اس وقت تک زندہ نہیں رہے گی۔" اس کے جواب میں حضرت امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے بڑی تحدی سے فرمایا۔"إنشاء اللہ تعالٰی تمبر آئے گا اور ہم دیکھیں گے کہ احمدیت نہ صرف زندہ ہے بلکہ زندہ تر ہے ہر زندگی کے میدان میں پہلے سے بڑھ کر زندہ ہو چکی ہے۔منظور چنیوٹی اگر زندہ رہا تو اس کو ایک ملک ایسا دکھائی نہیں دے گا جس میں احمدیت مرگئی ہو۔اور کثرت سے ایسے ملک دکھائی دیں گے۔جہاں احمدیت از سرنو زندہ ہوئی ہے یا احمدیت نئی شان کے ساتھ داخل ہوئی ہے اور کثرت کے ساتھ مردوں کو زندہ کر رہی ہے۔ا پس ایک وہ اعلان ہے جو منظور چنیوٹی نے کیا تھا اور ایک یہ اعلان ہے جو میں آپ