"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 97
۹۷ اور افعال شنیعہ سے باز آئیں اور خدا کے حضور توبہ کریں۔چشتی صاحب ! آپ نے اپنے نام کے پنچشتی کا لقب لگایا اور پھر اپنے آپ کو مقدس بنانے کے لئے آپ نے اپنے جھوٹ کے پلندہ کتابچہ ” فاتح قادیان" کے صفحہ ۲۷ پر لکھا کہ پشت چشتی اور چشتیائی کے الفاظ میں خدا معلوم کیا کشش ہے کہ زبان و قلم پر آتے ہی - وجد طاری ہو جاتا ہے۔چشم پر نم ہو جاتی ہیں۔گردنیں عقیدت و محبت سے جھک جاتی ہیں۔" ہم نے گزشتہ اوراق میں آپ کے متعلق ناروے کے اخبارات و رسائل کے نمونے دیئے ہیں جو آپ کی ردائے عزّت کو اس طرح چاک کرتے ہیں کہ آپ کے نفس کا ننگ ظاہر ہو جاتا ہے اور ہر کوئی آپ کی حقیقت اور رسوائیوں کو دیکھ لیتا ہے اور وہ آپ جیسے نام نہاد مذہبی لیڈروں چشتیوں کو دیکھ کر خون کے آنسو روتے ہیں اور ان کی گردنیں عقیدت و محبت سے نہیں جھکتیں بلکہ شرم و حیا اور ذلت کی مار کی وجہ سے جھک جاتی ہیں۔وہ آپ سے چھٹکارا حاصل کر کے شکرانے کے نفل ادا کرتے ہیں۔حضرت معین الدین چشتی اور حضرت گنج شکر " جیسے لوگ تو اسلام کی عظمتوں کے امین تھے مگر آپ کو تو زمانہ نے زمانہ کی ذلتوں کا امین ثابت کیا ہے۔چه نسبت خاک را با عالم پاک پھر اس چشتی کو بھی دیکھیں جو ابو الفتح کے نام سے برطانیہ میں معروف تھا وہ بھی اپنے نام کے ساتھ آپ ہی کی طرح " چشتی " لکھتا تھا۔اس نے جناب امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد ایدہ اللہ الودود کی طرف سے دی گئی دعوت مباہلہ سے استہزاء کیا اور بڑی تعلی سے اسے مجاہلہ قرار دیا۔پھر جس طرح اس کی عزت کو خدا تعالیٰ نے تار تار کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔اس کی قابل شرم کاروائیوں سے پردہ اٹھانے کی یہاں ضرورت نہیں اور نہ ہی ہم کسی کی ذلت و رسوائی سے خوش ہوتے ہیں۔بلکہ ہم دعا کرتے ہیں کہ اس شخص نے دنیا میں بہت ہی سزا پائی اور ہمیشہ کے لئے سیاہ روئی اس کا مقدر بن گئی ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی غلطیوں سے اغماض فرمائے اور اس کے گناہوں سے چشم پوشی کرے۔لیکن یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہر وہ جو خدا تعالیٰ کے مامورین اور اس کے قائم کردہ سلسلہ کے مقابل پر کھڑا ہوتا ہے یا اس کی ذلت کا خواہاں ہوتا ہے خود خدا تعالیٰ کی۔