"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 84 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 84

M " مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۳۹ء میں قادیان ضلع گورداسپور میں مرزا غلام مرتضیٰ کے ہاں پیدا ہوا۔علوم مروجہ پا کر ۱۸۶۴ء میں ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے دفتر میں بحیثیت اہل مد چار سال ملازمت کی۔اس دوران مذہبی کتب کا مطالعہ بھی جاری رکھا اور ملازمت سے چھٹکارا پا کر ابتداء عیسائیوں کو مناظروں کا چیلنج دیتے ہوئے کچھ شہرت پائی۔اور پھر اپنے عقیدت مند حکیم نور دین بھیروی کے مشورہ سے مثل عیسی ہونے کا دعوی کیا۔کچھ عرصہ بعد ایک قدم اور بڑھایا۔اور مسلمہ اسلامی عقیدہ حیات مسیح کا انکار کرتے ہوئے خود مسیح موعود بن بیٹھا۔۔۔۔" چشتی صاحب ! آپ کو وہ چیز نظر نہیں آسکتی جو پطرس حواری کو حضرت عیسی علیہ السلام میں، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں اور حضرت حکیم نور الدین رضی اللہ عنہ کو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود میں نظر آئی تھی یا ان پر ایمان لانے والوں کو نظر آتی ہے۔کیونکہ نہ آپ ان لوگوں کے زمرہ میں آتے ہیں اور نہ آپ کی نظر ایمان شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔بلکہ آپ تو وہ آنکھ رکھتے ہیں جو ہمیشہ مامورین کی تکذیب کے بہانے تلاش کرتی ہیں۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مهدی معہود علیہ السلام کا تعارف یہ ہے۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مهدی محمود علیه السلام ۱۳ فروری ۱۸۳۵ء بروز جمعته المبارک بعد نماز فجر تو ام پیدا ہوئے۔( سرتاج صوفیاء حضرت شیخ محی الدین ابن عربی نے اپنی کتاب فصوص الحکم میں تحریر فرمایا ہے کہ مہدی توام پیدا ہو گا۔) آپ کو بچپن ہی سے نیکی کے ساتھ گہرا لگاؤ تھا۔بچوں کی طرح کھیل کود کی طرف راغب نہ تھے۔البتہ اعتدال کے ساتھ تیرا کی گھوڑے کی سواری کے مشتاق تھے اور ورزش کے طور پر کئی کئی میل پیدل سیر کرتے آپ نے یہ عمل عمر کے آخر تک جاری رکھا۔ملکی رواج کے مطابق گھر پر ہی آپ کو مروجہ تعلیم دی گئی۔آپ کو علیحدگی میں عبادت الہی اور ریاضت کا بیحد شوق تھا۔سارا دن مسجد میں نماز کی ادائیگی اور پورے انہماک اور توجہ سے مذہبی کتابوں کے مطالعہ میں مصروف رہتے حتی کہ آپ کو " مستر کہا جانے لگا۔آپ کو قرآن کریم کے