"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 80 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 80

۸۰ ذاتی وجاہت کے وہ سلسلہ حدیث کو نام بنام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانا ضروری نہیں سمجھتے تھے یہ عادت ان کی شائع اور متعارف ہے۔اور بہر حال یہ حدیث ہم نے نہیں بنائی بلکہ آج سے تیرہ سو سال پہلے کی ہے۔دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ چاند کو مہینے کی پہلی تاریخ میں اور سورج کو وسط میں گرہن لگنا سنت اللہ اور قانون قدرت کے خلاف ہے۔قانون قدرت نے جو خدا کا بنایا ہوا قانون ہے چاند کے گرہن کو مہینے کی تیرھویں ، چودھویں اور پندرھویں میں اور سورج کے گرہن کو ستائیسویں ، اٹھائیسویں اور اتیسویں میں محدود کر دیا ہے۔پس پہلی تاریخ سے ان تاریخوں میں سے پہلی اور درمیانی تاریخ سے ان تاریخوں میں سے درمیانی مراد ہے نہ کہ مطلقاً مہینہ کی پہلی اور درمیانی تاریخ۔اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ مہینے کی ابتدائی راتوں کا چاند عربی زبان میں ہلال کہلاتا ہے مگر حدیث میں قمر کا لفظ رکھا گیا ہے۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ ابتدائی رات مراد نہیں۔علاوہ ازیں ہمیشہ سے مسلمان علماء ان تاریخوں کے متعلق یہی تشریح کرتے رہے ہیں جو ہم نے کی ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی مولوی محمد صاحب لکھو کے والے نے اس نشان کے ظاہر ہونے سے پہلے لکھا تھا کہ - تیرھویں چند سیہویں سورج گرہن ہوسی اس سالے اندر ماہ رمضانے لکھیا ایہہ یک روایت والے اس شعر میں مولوی صاحب نے غلطی سے اٹھائیسویں تاریخ کی جگہ ستائیسویں تاریخ لکھ دی ہے مگر بہر حال اصول وہی تسلیم کیا ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔اور سب سے بڑی بات یہ کہ واقعات نے بھی اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ پہلی تاریخ سے تیرھویں تاریخ اور درمیانی تاریخ سے اٹھا ئیسویں تاریخ مراد ہے۔الغرض یہ نشان ایسا واضح طور پر پورا ہوا ہے کہ کسی حیلہ و حجت کی گنجائش نہیں رہی۔چنانچہ معتبر ذرائع سے سنا گیا ہے کہ جب یہ نشان پورا ہوا تو بعض مولوی صاحبان اپنی رانوں پر ہاتھ مارتے تھے اور کہتے تھے کہ ”اب خلقت گمراہ ہو گئی ، اب خلقت گمراہ ہوگی۔" یہ بھی علماء هم شر من تحت اديم السماء (یعنی مسیح موعود کے وقت میں علماء دنیا کی بد ترین مخلوق ہوں گے ) کی ایک واضح مثال ہے کہ ادھر خدا کا نشان ظاہر ہو رہا ہے اور ادھر مولوی صاحبان کو یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ یہ