"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 40 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 40

(۴) مسیح موعود علیہ السلام نئی شریعت نہیں لائے چشتی صاحب نے انبیاء کی صداقت کا ایک نیا معیار تراشہ ہے جس کا نہ قرآن کریم میں ذکر ہے نہ احادیث نبویہ میں اور نہ ہی اس کا کہیں پرانی کتابوں میں پتہ چلتا ہے۔لکھتے ہیں :- " انبیاء علیہم السلام کی بے شمار صفات مطہرہ میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ کتاب لاتے ہیں بھیجی گئی کتاب کی طرف بلاتے ہیں وہ کتاب لکھا نہیں کرتے ؟ (صفحه ) یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ جیسے کوئی یہ کہہ دے کہ انبیاء علیہم السلام بنی بنائی کشتیوں پر تو سفر کرتے ہیں خود کشی نہیں بنایا کرتے۔ہر شخص جانتا ہے کہ یہ صرف خدا تعالی کا کام ہے کہ وہ زمانہ کے حالات کے مطابق وقت کے نبی کو صداقتِ نبوت کے ثبوت کے لئے نشان عطا فرمائے۔حضرت نوح علیہ السلام کو زمانہ کے حالات کے مطابق کشتی بنانے کا حکم ہوا تو وہی آپ کے لئے زبردست معجزہ ثابت ہوئی اور آپ کی نبوت کی صداقت کا ثبوت بنی۔اسی طرح ہر نبی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بعض امتیازی نشان عطا کئے گئے اور اس اذا الصحف نشرت ( سورۃ التکویر ) (یعنی جب کتب و رسائل بکثرت پھیل جائیں گے) کے زمانہ میں مامورِ زمانہ کو علمی و تصنیفی معجزات بطور نبوت کی ، صداقت کے ثبوت کے عطا فرمائے گئے جن میں سے کتاب " اعجاز المسیح بھی ایک زبردست نشان ہے۔چونکہ یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس نشان کے سامنے عاجز آچکے ہیں اس لئے ویسی ہی باتیں کرتے ہیں جیسے رؤسائے بکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عاجز آکر کرتے تھے۔مال هذا الرسول ياكل الطعام ويمشى في الاسواق (الفرقان : ۸) کہ اس رسول کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے۔اور آج چشتی صاحب کو اعتراض یہ ہے کہ عجیب نبی ہے کہ کتاب لکھتا ہے۔گویا کتاب لکھنا ایک نہی کے لئے بہت ہی بری اور قابل اعتراض بات ہے۔جہاں تک انبیاء علیہم السلام کے لکھنے پڑھنے کا تعلق ہے تو یہ صرف ہمارے آقا و موٹی ، نبی اُمی