"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 35
۳۵ بھیج دیں تاکہ کتاب لے جاوے امید ہے کہ میری یہ ناچیز خدمت حضرت مرزا صاحب اور آپ کی جماعت قبول فرما کر میرے لئے دعا خیر فرمائیں گے لیکن میرا التماس ہے کہ میرا نام بالفعل ہرگز ظاہر نہ کیا جاوے تاکہ پھر بھی مجھ سے ایسی مدد مل سکے۔مولوی شہاب الدین - کی جانب سے السلام علیکم۔والسلام خاکسار محمد کرم الدین عفی عنہ از ھیں تحصیل چکوال ۳ اگست ۱۹۰۲ء " ( نوٹ : محط کے شروع میں جس لڑکے کا ذکر ہے اس سے مراد محمد حسن متوفی کا لڑکا ہے جو اس کا وارث ہے۔اسی نے بقول مولوی کرم دین صاحب چھ روپے نقد لے کر دونوں کتابیں یعنی اعجاز المسیح اور شمس بازغہ جن پر محمد حسن مذکور کے دستخطی نوٹ تھے ہم کو دے دیں۔اور مہر علی کی پردہ دری کا یہی موجب ہوا۔) نوٹ : اگر اجازت سے یہ کام تھا چوری سے نہیں تھا تو کیوں کتاب میں محمد حسن کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اس کی اجازت سے میں نے اس کے مضمون لکھے ہیں۔اور کیوں جھوٹ بولا گیا کہ یہ میں نے تالیف کی ہے اور کیوں اپنی کتاب میں اس کی کوئی تحریر طبع نہیں کی جس میں ایسی اجازت تھی اور کیوں اس وقت تک خاموش رہا جب تک کہ خدا نے پردہ دری کر دی اور چوری پکڑی گئی۔مولوی کرم دین نے پیر مہر علی شاہ کے جس کارڈ کا ذکر اپنے ان دونوں مذکورہ بالا خطوط میں کیا ہے اس کی نقل ملاحظہ فرمائیں۔اس میں پیر صاحب کا کھلا کھلا اقرار موجود ہے کہ دراصل کتاب سیف چشتیائی مولوی محمد حسن فیضی متوفی کا مضمون ہے۔چنانچہ وہ مولوی کرم الدین کو مخاطب کرتے " ہوئے لکھتے ہیں :- مجتی و مخلصی مولوی کرم الدین صاحب سلامت باشند و علیکم السلام و رحمتہ اللہ - اما بعد یک نسخہ بذریعہ ڈاک یا کسے آدم معتبر فرستاده خواهد شد - آپکو واضح ہو کہ اس کتاب