"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 24
۲۴ روپیہ نقد ان کو انعام دوں گا اور تمام اپنی کتابیں جلا دوں گا۔اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا۔اور اگر قضیه برعکس نکلا یا اس مدت تک یعنی ستر بروز تک وہ کچھ بھی نہ لکھ سکے تو مجھے ایسے لوگوں سے بیعت لینے کی بھی ضرورت نہیں اور نہ روپیہ کی خواہش۔صرف یہی دکھلاؤں گا کہ کیسے انہوں نے پیر کہلا کر قابل شرم جھوٹ بولا۔" نیز فرمایا :- (روحانی خزائن جلد ۱۷ حاشیه صفحه ۴۴۹-۴۵۰) " ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی اور محمد حسن تھیں وغیرہ کو بلا لیں۔بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر دو چار عرب کے ادیب بھی طلب کر لیں۔فریقین کی تفسیر چارجز سے کم نہیں ہونی چاہئے۔۔۔۔۔۔۔اگر میعاد مجوزه تک یعنی ۱۵ - دسمبر۔۔اگر میعاد مجوزه تک یعنی ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ء سے ۲۵ - فروری ۱۹۰۱ء تک جو سترون ہیں فریقین میں سے کوئی فریق چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گذر جائیں تو وہ جھوٹا سمجھا جائے گا۔اور اس کے کاذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہ رہے گی۔" روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۸۴) اس اعلان کے مطابق اللہ تعالی کے فضل اور اس کی خاص تائید سے حضرت اقدس علیہ السلام نے مدت معینہ کے اندر ۲۳۔فروری ۱۹۰۱ء کو ” اعجاز الصحیح" کے نام سے فصیح و بلیغ عربی زبان میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر شائع کر دی اور اس کتاب کے سرورق پر آپ نے یہ پیشگوئی کرتے ہوئے بڑی تحدی سے فرمایا کہ یہ ایک لاجواب کتاب ہے - و من قام للجواب و تنمر فسوف يرى انه تندم و تذمر کہ جو شخص بھی غصہ میں آکر اس کتاب کا جواب لکھنے کے لئے تیار ہو گا وہ نادم ہو گا اور حسرت کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس تفسیر کے لکھنے کی غرض یہ بیان فرمائی کہ تا پیر مہر علی شاہ صاحب کا جھوٹ ظاہر ہو کہ وہ قرآن کریم کا علم رکھتے اور چشمہ عرفان سے پینے والے اور صاحب خوارق و کرامات ہیں۔اعجاز المسیح - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۶ تا ۳۹)