"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 15
(یاد رہے کہ غشی الہی بخش اکو شنسٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شدید مخالف تھا اور آپ سے بغض و عناد میں اپنی مثال آپ تھا۔) مریدوں کی طرف سے دھمکیاں مزید بر آن پیر صاحب کے بعض مرید آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے حضرت اقدس کو دشنام آلود خطوں کا باقاعدہ ایک سلسلہ شروع کر دیا۔جن میں نہ صرف فحش کلامی کو انتہا تک پہنچایا گیا تھا بلکہ قتل کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ عوامی ذہن کو آپ کے خلاف مسموم کرنے کی خطرناک مہم تیز کر دی گئی ہے۔پیر صاحب کی لاہور میں اچانک آمد (عصائے موسیٰ صفحہ ۴۸) ادھر پیر صاحب کی ہوشیاری دیکھئے۔انہوں نے ۲۱۔اگست کو یہ اشتہار دیا اور یہ انتظار کئے بغیر کہ حضرت اقدس کی طرف سے اس کا کیا جواب دیا جاتا دو تین روز بعد ہی اپنے مریدوں کی ایک بڑی جمعیت لے کر ۲۴۔اگست بروز جمعہ کو پہنچ گئے۔حضرت اقدس نے تفسیر نویسی کے مقابلہ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ، مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی اور مولوی عبداللہ صاحب ٹونکی پروفیسر اور نینٹل کالج لاہور کا نام بطور ثالث تجویز کیا تھا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اس موقعہ پر اپنے ایک ذاتی کام کے بہانہ سے شملہ کی طرف چلے گئے مگر موخر الذکر دو اصحاب اس دن آ موجود ہوئے اور مزعومہ مباحثہ کی کاروائی سننے کے لئے بیرونی مقامات سے بھی کافی لوگ آپہنچے۔چنانچہ بٹالوی صاحب خود لکھتے ہیں :۔" خاکسار نے۔۔۔۔۔مرزا کے دعوئی بالمقابلہ تفسیر نویسی اور نشان نمائی کو اس کی قدیم لاف زنی سمجھ کر۔۔۔۔۔اعراض اختیار کیا اور اپنی ذاتی ضرورتوں کے لئے شملہ پہنچا۔" (اشاعت اللہ جلد ۱۹ صفحه (۳۹)