"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 14
متعلق مباحثہ کی تجویز پیش کر کے پھر ایک ایسے شخص کو مباحثہ کے لئے ثالث مقرر کر دیا گیا جو اول المکفرین اور مسیح موعود کی مخالفت کے اعتبار سے پیر صاحب کا ہم مشرب تھا۔اس کا حضرت مسیح موعود سے اختلاف ہی مسئلہ وفات مسیح تھا اور مسئلہ حیاتِ مسیح ہی اس کا مدار ایمان تھا۔اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابل پر خود ایک فریق تھا۔پھر پیر گولڑوی صاحب موصوف کا منقولی مباحثہ کے بعد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور اس نوع کے دوسرے دو اشخاص کو از خود حکم بنا لینا بھی ایک مضحکہ خیز بات تھی کیونکہ یہ حضرات مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب کے معاملہ میں پہلے ہی پیر صاحب موصوف کے موید تھے۔مولوی محمد احسن صاحب کا جواب مولوی محمد احسن صاحب نے ۱۴ اگست ۱۹۰۰ء کو اشتہار دیا۔کہ اگر پیر صاحب مقابلہ سے فرار نہیں کر رہے تو وہی تین علماء جو تفسیر قرآن کے لئے حضور نے نامزد کئے تھے طلفا یہ شائع کر دیں کہ پیر صاحب کا یہ طریق تغییر نویسی کے مقابل عجز کا ثبوت نہیں ہے اس کے بعد اگر ایک سال کے اندر مرزا صاحب کی تائید میں کوئی نشان ظاہر نہ ہوا تو پھر ہم مغلوب متصور ہوں گے۔اس کے علاوہ حضرت اقدس کے لاہور کے خدام نے اپنی انجمن فرقان ( جس کے صدر حکیم فضل الہی صاحب ، سیکرٹری منشی تاجدین صاحب اور جائنٹ سیکرٹری میاں معراج دین صاحب عمر تھے ) کی طرف سے ۱۹ اور ۲۰۔اگست کو دو دفعه اشتہار دیا کہ اگر پیر صاحب موصوف حضرت اقدس کی شرط کے مقابل تفسیر لکھ لیں تو ہم ایک ہزار روپیہ نقد بطور انعام پیر صاحب کی خدمت میں پیش کر دیں گے۔واقعات مجھہ - صفحہ ۳۷۳۶) ان اشتہارات کے جواب میں ۲۱۔اگست کو پیر صاحب کی طرف سے دوبارہ اشتہار دیا گیا جس میں تفسیر نویسی کو ٹالنے کے لئے سارا زور مباحثہ پر ہی تھا اور ساتھ ہی مباحثہ کی تاریخ از خود ۲۵- اگست تجویز کرلی۔عصائے موسیٰ صفحہ ۴۱۸ مصنفہ منشی الہی بخش اکو ٹنٹ )