فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 80
کہ ایک ڈھیر بنا دے پھر اس سارے ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے گاڈ پھر کون سا ہے اور پھر وہ جنتی گروہ کونسا ہے یہ بات خاص طور پر غور کے قابل ہے۔اس گنتی کا رانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ اس تہتر فرقوں والی حدیث کے ما انا علیہ واصحابی۔اور وھی الجماعۃ میں مضمر ہے۔اس لئے اس جنتی گروہ کو جانتے اور پہچاننے کیلئے اس پر غور کرنا اشد ضروری ہے خاک اراب اس تعلق سے یہاں کچھ لکھتا ہے۔جنتی فرقہ ایک جماعت ہوگئی مشکوة شریف ہی درست معایت جو ابو داؤد کے حوالے سے ہے میں میں وهي الجماعة کے الفاظ موجود ہیں اس کو میں پہلے لیتا ہوں۔فرمایا : وفي رواية احمد و ابی داؤد عن معاوية ثنتان و سبعون في النار وواحدة في الجنة وهي الجماعة یعنی احمد اور ابو داؤد کی روایت ہے کہ حضرت معاویہ کی روایت ہے اس طرح منقول ہے۔بہتر دوزخ میں ہو نگے اور ایک جنت میں اور وہ ایک جماعت ہوگی۔جماعت کسے کہتے ہیں ایک جمع غفیر جماعت نہیں کہلا سکتا۔اثر ھام کا نام توا سے دیا جا سکتا ہے لیکن جماعت نہیں اسکی آسان مثال اس طرح سے دی جاسکتی ہے کہ اگر ایک جگہ ایک لاکھ آدمی اپنی اپنی نماز ادا کریں تو باوجود کثرۃ الناس کے وہ یا جماعت نہیں کہلا سکتی لیکن اگر کسی جگہ تین آدمی ہوں اور ایک امام بن کر نماز پڑھائے تو وہ نماز با جماعت کہلائے گی اگو یا امام کے بغیر جماعت نہیں ہو سکتی امام ہو گا تو اس کی اقتدا کر نے والے جماعت کہلائیں گے۔اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ امام کیا ہوا اور کون ہوا کی مساجد کے کام جن کو ناز پری اے کے لئے کھڑا کیا جاتا ہے وہ امام نہیں ہے تو اس کا جواب ہے کہ وہ نماز کا امام تو ضرور ہے لیکن قوم کا اہم نہیں پھر اس کا کوئی دعوئی نہیں اسے تو لوگ مقدر کہ تے اور جب چاہتے ہیں اسات سے خارج کر دیتے ہیں۔لیکن حدیث میں جس جماعت کا ذکر ہے وہ ایک خدائی امام سے