فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 68
۶۸ میں امام مہدی علیہ اسلام ظہور کریں گے اُن پر ایمان لانا فرض ہے تو جو لوگ ایمان لے آئے وہ کافر کیسے ہوئے۔کافر تو وہ ٹھہریں گے جو انکار کرتے ہیں۔جب ہم ان علماء سے پوچھتے ہیں کہ چلو اگر تھوڑی دیر کے لئے ہم یہ مان لیں کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام وہ امام مہدی نہیں جس کے آنے کی پیش گوئی ہے تو اگر ان کی جگہ کوئی اور امام مہدی آ جائے جس کو آپ لوگ سچا تسلیم کرتے ہوں تو یہ بتائیں کہ اس سچے امام مہدی کا انکار کر نے والا آپ لوگوں کے ننہ دیک کون ہو گا۔مومن یا کافر ؟ تو جواب ہوتا ہے کہ کافتاب سوال تو صرف شخصیت کا ہے اس بات میں تو تمام فرقے والے متفق ہیں کہ سچے مہاری کا انکار کرنے والا لازما کافر ہے۔تو جماعت احمدیہ اگر دوسروں کو کافر سمجھتی بھی ہے تو وہ صرف اسی لئے کہ انہوں نے ایک سچے امام مہدی اور مسیح موعود کا انکار کیا ہے اسی طرح سے جماعت احمدیہ نے کبھی بھی کسی خاص فرقہ کے خلاف کوئی کفر کا فتوی نہیں دیا۔جیسا کہ دیگہ فرقے فتوے دیتے آئے ہیں اور دیتے ہیں۔ہمارے نزدیک تمام فرقوں میں سے جو بھی اس سچے امام مہدی کا انکار کر دے (جسے ہم سچا مان رہے ہیں اور دہ سچا ہے) ایک ہی صف میں شمار کر تے ہیں لیکن اسلام سے خارج نہیں کہتے۔مسلمان کی تعریف کیا ہے ؟ | جاعت احمدیہ کا جہاں سوال آتا ہے تو نام فرقوں کے لوگ اکٹھے ہو کہ اس بات کا اعلان کر تے ہیں کہ جماعت احمدیہ کا فر ہے اور بے دین حتی کہ اسلام سے خارج۔اس بات کو میں آگے بیان کروں گا کہ اس میں خدا تعالی کی طرف سے کیا راز پوشیدہ تھا۔لیکن میں اس وقت اس بات کو بیان کرنا چاہتا ہوں کہ آخر ایک مسلمان کی تعریف کیا ہو گی۔کیسے جانا جائے کہ یہ سلمان ہے اور یہ کافر اس پر علماء کی آراء کیا میں سب فرقوں کے علماء کسی ایک بات متفق ہیں یا پھر اس میں بھی اختلاف رکھتے ہیں۔پاکستان میں ۱۹۵۳ء میں فساد پھوٹ پڑا جس میں مطالبہ یہ تھا کہ جماعت پر