فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 67 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 67

ر ایک والوں سے تو انعام کا وعدہ ہے اور حدیث میں نجات یافتہ گروہ کے متعلق لکھا ہے کہ ما انا علیہ و اصحابی اور وھی الجماعت کہ وہ میرے اور میرے صحابہ کی طرح سے ہوں گے۔اور دوسری نشانی بتائی کر دہ ایک جماعت ہو گی۔ایمان لائیں گے تو ہی صحابہ میں شامل ہوں گے اور ایمان لانے والا گر وہ صرف یہ ہو گا وہ بھی جماعت کی صورت میں۔فی زمانہ جتنے بھی فرقے پائے جاتے ہیں اُن میں سے ہر فرقہ اپنے آپ کو جنتی بیان کرتا اور دوسروں کو جہنمی بتاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام فرقوں نے ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے دیئے ہیں جن کے نمونے آپ پڑھ چکے ہیں۔اسی طرح سے ہر فرقہ اپنے آپ کو صحابہ کے قدم بقدم بیان کرتا ہے خواہ وہ کردار، اُن میں ظاہر ہوں یا نہ ہوں گذشتہ صفحات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ جو شخص کسی کو کافر کہے اور وہ کافر نہ ہو جسے کافر کہا جا رہا ہے تو پھر وہ کفر پلٹ کہ اسی پر پڑتا ہے اور کافر کہنے والا کا فر ہو جاتا ہے۔اس کسوٹی کے مطابق تمام فرقے ایک دوسرے کو کافر کہہ کر کفر کی صف میں کھڑے ہو گئے یہاں پر لوگ ہے اعتراض کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ بھی تو دوسروں کو کافر سمجھتی ہے۔تو وہ خود کون ہے انور کا جواب یہ ہے کہ بانی جماعت احمدیہ نے کسی کو کافر نہیں کہا۔دوسرے فرقوں کے علماء نے جب آپ پر کفر کے فتوے لگائے تب آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہی ارشاد دہرایا اور آپ نے فرمایا کہ جب میں خدا کے فضل سے کافر نہیں تو حید نماز روزہ زکواۃ حج پر خدا رسول فرشتوں کتابوں قیامت اور خیر و شر پر میرا ایمان ہے تو پھر میں کسی طرح کا فر ہوا چونکہ آپ نے مجھے کافر کہا جبکہ میں کافر نہیں تو یہ کفر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی روشنی میں پلٹ کہ آپ پر پڑا اور آپ لوگ اپنے ہی قول ہے کافر ٹھہرے۔دوسری بات یہ ہے کہ مومن اور کا فریمیں کون سی بات امتیاز کرتی ہے ؟ صرف ایمان - آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی پیش گوئی موجود ہے کہ آخری زمانہ