فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 49 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 49

ور اور دہ لوگ بھی ظالم ہوکر کا قبر ہوئے جنہوں نے مسجدوں میں گھڑیاں لٹکا دیں۔اور پھر مسجدوں پر رات اور دن کے حصہ میں تالے لگا دیئے۔اور وہ لوگ بھی شیطان کے پیرو کار ہو کر کافر ہوئے جنہوں نے داڑھی مونڈی یا منٹ وائی اور مطمین ہوئے۔" حوالہ پیغام صلح ۱۷ مارچ ۱۹۶۸ء لاہور رساله لیل و نہار ۱۹ اپریل ۷ حیرت انگیز قوی است کتاب تقویۃ الایمان میں لکھا ہے کہ ہ شوال میں سے عید کے روزہ سیویاں پکانا اور بعد نماز عیدین کے بغلگیر ہو کر ملنا یا مصافحہ کرنا الی قولہ، وہ شخص اس آیت کے مطابق مسلمان نہیں۔" ر تفصیل کے لئے دیکھیں تقویتہ الایمان من سطرا من سطر ۲۲) کرکٹ میچ دیکھنے پر فتوی نعرہ بازی کھیلوں میںمیں گیس پورٹ کے متعلق فتوئی یہ ہے کہ :۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ بیچے دیکھنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“ ر مفتی مختار احمدنعیمی گجراتی حواله روزنامه امروز جمعرات هر اکتوبر ۱۹۷۸ء در حواله اشتہار شائع کرده محمد سلیمان طارق سیالکوٹ) قارئین کفر کے فتوؤں کی داستان اس قدر لمبی ہے کہ ختم ہونے کو نہیں آتی بہر حال میں اس کو ان چند مثالوں کے ساتھ یہیں ختم کرتا ہوں اور مضمون کو آگے بڑھاتا ہوں۔جماعت احمدیہ پر فتاوی تکفیر کی زد دیگر فرقوں پر جماعت کے خلاف مختلف وقتوں میں مختلف کتابیں شائع ہوتی رہی ہیں۔اور ہر کتاب میں جو بھی جماعت کے خلاف شائع ہوئی دو باتوں کو لازمی طور پر پیش کیا گیا ان میں سے ایک یہ کہ جماعت انگریزوں کا کاشت کردا پودا ہے اور دوسرا بڑا الترام یہ کہ جماعت اور بانی جماعت احمدیہ اجرائے نبوت کے قائل ہیں۔اور اس دوسری بات ہی کو لے کر