فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 38
۳۸ یہ تھی داستان ان فتووں کی جو ایک فرقے نے دوسرے فرقے کے خلاف دیئے اس کے علاوہ دوسری دوران فتوی کی ہے جو علماء کے خلاف دیئے گئے یا بزرگان امت کے خلاف دیئے گئے یا ان لوگوں کے خلاف دئے گئے جو ترقی پسند تھے اور انہوں نے نئی ایجادات سے فائدہ حاصل کرنے کی شرود استات کی پھر وہ لوگ بھی ان فتووں کی زد میں آئے جو تعلیم کے میدان میں آگئے آنے کی کوشش کر نے لگے۔ان میں سے بھی بعض فتووں کا ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔بڑے ہی حیرت انگیز نتوے ہیں۔مجھے تو ان لوگوں کے خلاف فتووں سے زیادہ دلچسپی ہے جنہوں نے جماعت کے خلاف یا پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف فتوے دیئے۔اس بات سے تو تمام مسلمان واقف ہیں کہ آغا نہ اسلام سے ہی رجس کا نام خلافت حقہ اسلامیہ کے اختتام کے ساتھ ہی شروع ہو گیا) فتووں کا آغاز ہو گیا اور تمام بند سرگان است کے خلاف فتوے دیئے جاتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ : " یہ بات تو سچ ہے کہ قدیم سے علماء کا یہی حال رہا ہے کہ مشائخ اور اکا بر اور ائمہ وقت کی کتابوں کے بعض بعض حقائق اور معارف اور دقائق اور نکات عالیہ اُن کو سمجھ نہیں آئے اوران کے زعم میں وہ خلاف کتاب اللہ اور آثار نبو یہ پائے گئے تو بعض نے علماء میں سے ان اکابر اور ائمہ کو دائرہ اسلام سے خارج کیا اور بعض نے نرمی کر کے کافر تو نہ کہا لیکن اہل سنت والجماعت سے باہر کر دیا۔پھر جب یہ زمانہ گزر گیا اور دوسرے قرن کے علماء پیدا ہوئے تو خدا تعالے ان پچھلے علماء کے بہینوں اور دلوں کو کھول دیا اور ان کو دہ باریک باتیں سمجھا دیں جو پہلوں نے نہیں کبھی تمھیں۔تب انہوں نے ان گذشتہ اکابر اور اماموں کو ان تکفر کے فتووں سے بری کر دیا اور نہ صرف بری بلکہ ان کی قطبیت اور غوثیت او را عملی مراتب درلایت