فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 29
۲۹۔اسی طرح ایک جگہ لکھتے ہیں: اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی مختلف جماعتیں اسلام کے نام سے کام کر رہی ہیں۔اگر فی الواقع اسلام کے معیار پر ان کے نظریات مقاصد اور کارناموں کو پرکھا جائے تو سب کی سب جنس کا سو نکلیں گی۔خواہ مغربی تعلیم و تربیت پائے ہوئے سیاسی لیڈر ہوں یا علماء دین و مفتیان شرح متین۔“ " ر سیاسی کشمکش حصته سوم ص) اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ : میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ مسلمان اور کافر میں علم اور عمل کے سوائے کوئی فرق نہیں ہے۔اگر کسی شخص کا علم اور عمل ویسا ہی ہے جیسا کا فر کا ہے اور وہ اپنے آپ کو گو مسلمان کہتا ہے تو وہ بالکل جھوٹ کہتا ہے۔کا فرقرآن نہیں پڑھتا اور نہیں جانتا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔یہی حال اگر مسلمان کا بھی ہو تو وہ مسلمان کیوں کہلائے ، کافر نہیں جانتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا تعلیم ہے اور آپ نے خدا تک پہنچنے کا سیدھا راستہ کیا بتایا ہے۔اگر مسلمان بھی اس کی طرح ناواقف ہو تو وہ مسلمان کیسے ہوا۔کافر خدا کی مرضی پر چلنے کی بجائے اپنی مرضی پر چلتا ہے مسلمان بھی اگر اُسی کی طرح خود سر اور آزاد ہوا اسی کی طرح اپنے ذاتی خیالات اور اپنی رائے پر چلنے والا ہو، اسی کی طرح خدا سے بے پرواہ اور اپنی خواہش کا بندہ ہو تو اسے اپنے آپ کو مسلمان (خدا کا فرمانبردار) کہنے کا کیا حق ہے۔کافر حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتا اور جس کام میں اپنے ننزدیک فائدہ یا لذت دیکھتا ہے اس کو اختیار کر لیتا ہے۔چاہے خدا کے نزدیک وہ حلال ہو یا حرام یہی رویہ اگر مسلمان کا ہو تو اس میں اور کافر میں کیا فرق ہوا۔غرض یہ کہ جب مسلمان بھی اسلام کے علم سے اتنا ہی کو را ہو جتنا کافر