فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 28
حقیقی معنوں میں مسلمان فرض کر لینا اور یہ امید رکھنا کہ اُن کے اجتماع سے جو کام بھی ہو گا اسلامی اصول یہ ہی ہو گا پہلی اور بنیادی غلطی ہے" ( سیاسی کشمکش حصه سوم بارششم مشا، ۱۰۶) گویا کہ مسلمانوں کا اجتماع جو بھی کام کر ے گا وہ ضروری نہیں کہ اسلامی ہو البتہ عمارت اسلامی کے کام اسلامی کہلائیں گے دوسرے کے کام کو اسلامی خیال کرنا بھی غلط ہے۔۴۔اسی طرح ایک جگہ لکھتے ہیں۔" اب تک میں نے کوئی چیز ایسی نہیں لکھی جس پر کسی نہ کسی گروہ کو چوٹ نہ لگی ہو۔اور اگر میں یہ فیصلہ کر لوں کہ کوئی ایسی چیز نہ لکھی جائے جو مسلمانوں کے کسی گروہ کو ناگوار ہو تو شاید کچھ بھی نہ لکھ سکوں یا رسائل مسائل ۲۸۳ طبع اول ۶۱۹۵۱ ۵۔مسلمانوں میں پائے جانے والے فرقوں کے تعلق سے لکھتے ہیں: " مثلاً اہلحدیث، حنفی دیوبندی، بریلوی ، شیعه اسنتی انتیں جہالت کی پیدا وار ہیں یہ ( خطبات مت طبع بار رفتم ) - مسلمانوں کو جانوروں سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہتر اور موجودہ مسلمانوں کی نام نہاد سوسائٹی جس میں جیل، گدھے، بڑے ہزاروں قسم کے جانور جمع ہیں ؟ (سیاسی کشمکش حصہ سوم طبع اول مشت) ے۔مسلمانوں کی تعریف یوں بیان کی : وہ انبوہ عظیم جس کے ۹۹ فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں نہ 16 حق و باطل کی تمیز سے آشنا ہیں کشمکش حصہ سوم بر (۱۱۶۰۱۱۵ ہزار میں سے مسلمان ایک ہے وہ جماعت اسلامی کا نمبر گویا باقی مسلمان ہی نہیں ہیں یا تمامۃ المسلمین کے خلاف جناب مودودی صاحب کے فتوی ہائے کفر۔